وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاسطالبان سے مذاکراتی عمل ہر صورت آگے بڑھانے کا فیصلہ

گمراہ اور پریشان عناصرکو قومی دھارے میں لائے بغیر یا راتوں رات امن ممکن نہیں،وزیراعظم


APP/AFP November 05, 2013
خیرپورٹامیوالی :وزیراعظم نوازشریف مسلح افواج کی جنگی مشقیں عزم نو 4دیکھنے آرہے ہیں، آرمی چیف جنرل کیانی گاڑی ڈرائیوکررہے ہیں ۔ فوٹو : اے ایف پی

وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ حکومت نے ملک سے تشدد اور خونریزی کے خاتمے کا ٹھوس عزم کر رکھا ہے تاہم ایک رات میں ایسا ہوسکتا ہے نہ اپنے شہریوں کیخلاف طاقت کے بے جا استعمال کے ذریعے امن ممکن ہے۔

معاشرے کے گمراہ اور پریشان عناصر کو قومی دھارے میں لائے بغیر یہ ممکن نہیں۔ وہ پیر کو بہاولپور کے قریب پاک فوج کی فیلڈ مشقوں کے معائنے کے موقع پر خطاب کررہے تھے۔ علاوہ ازیں وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نواز شریف نے کہاکہ ڈرون حملوں کے افسوسناک اور قابل مذمت سلسلے کے جاری رہنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پائیدار قیام امن اور دہشتگردی کے مستقل خاتمے کیلیے پاکستان کے نکتہ نظر کو نہیں سمجھا گیا۔ پوری عالمی برادری بھی قتل وغارت کا خاتمہ چاہتی ہے۔

دہشتگردی کی سب سے زیادہ قیمت پاکستان نے ادا کی ہے۔ ہم سے زیادہ کسی کو زخم لگے ہیں نہ کسی کا خون بہا ہے۔ ہمیں اس مسئلے کی سنگینی کا بھرپور احساس ہے لیکن ہمیں اپنے مسائل کو اپنی حکمت عملی کے مطابق حل کرنے دیا جائے۔ مذاکرات کا آغاز ہوچکا تھا، برف پگھل رہی تھی اور دونوں طرف سے رابطے قائم ہوچکے تھے۔ ان حالات میں ڈرون حملے سے مذاکرات اور قیام امن کی حکومتی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا ہے لیکن یقین ہے کہ ہم مذاکرات اور قیام امن کی کوششوں کو پٹڑی سے اترنے نہیں دینگے۔ ہم خون کو خون سے دھونے کا راستہ چھوڑ کر دہشتگردی کے خاتمے کیلیے جس عمل کا آغاز کرچکے ہیں اسکے ساتھ تعاون نہیں کیا جاسکتا تو کم ازکم اسے نقصان نہ پہنچایا جائے۔ پاکستان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے فیصلے خود کرے اور پاکستان کے مفاد کے مطابق کرے۔

کابینہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اے پی سی میں کیے گئے فیصلوں کا احترام کیاجائیگا اور امن کیلیے مذاکرات کو آگے بڑھایا جائیگا اور اس عمل کو ڈی ریل نہیں ہونے دیا جائیگا۔فوجی مشقوں کے معائنے کے دوران خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کی سالمیت اور تحفظ محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ ہماری مسلح افواج کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کیلیے بہترین صلاحیت رکھتی ہیں۔ حکومت نے ملک سے تشدد اور خونریزی ختم کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ ہم مالی امداد نہیں چاہتے بلکہ پاکستان کی سیاسی، اقتصادی اور قومی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے دوطرفہ بنیادوں پر خارجہ تعلقات کا فروغ چاہتے ہیں۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے انگریزی میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا جمہوری نظام اقتصادی صلاحیت، ولولہ انگیز قوم، قومی یکجہتی اور پروفیشنل مسلح افواج جنوبی ایشیا میں اسٹرٹیجک استحکام کی ضمانت ہے۔



مسلح افواج نے ہر طرح کے حالات میں پاکستان کے عوام کا ساتھ دیا، قوم کو اس جذبے پر بڑا فخر ہے۔ انھوں نے کہاکہ ملک کو اس وقت بڑے داخلی اور خارجی چیلنجوں کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کی امید ہے۔ وہ دن گئے جب بیرون ملک سے ٹیلی فون کال پر قومی سیکیورٹی پالیسیاں متعین کی جاتی تھیں۔ پاکستان میں اب عوام کی منتخب کردہ جمہوری حکومت ہے۔ یہ منتخب حکومت ہی تھی جس نے ملک کو ایٹمی طاقت بنانے کا اعلان کیا۔ منتخب حکومت نے ہی ملک میں جدید طیارہ جے ایف تھنڈر، الخالد اور الضرار ٹینک بنائے اور قومی سلامتی کے مزید سسٹم تشکیل دیے۔ عوام جو چاہتے ہیں اس کے فیصلے کی حقیقی طاقت انھی کے پاس ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ڈرون حملے پاکستان کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سیاسی جماعتوں، فوج اور سول سوسائٹی کا موقف یکساں ہے تاکہ دہشتگردی کی لعنت سے نمٹنے کیلیے ضروری سازگار فضا قائم کی جاسکے۔ اسی سلسلے میں آل پارٹیز کانفرنس نے غیرمعمولی قومی اتحاد اور ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کو موقع دینے کی ضرورت کو اجاگرکیا۔ نواز شریف نے کہاکہ سیاسی جماعتوں، فوج، ایگزیکٹو، عدلیہ، پارلیمنٹ اور میڈیا سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو ان مشکل حالات میں ساتھ دینا چاہیے۔ کوئی مزید خونریزی نہیں چاہتا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے فوجیوں نے شہادت دیتے ہوئے اعلیٰ ترین قربانیاں دیں، ان کے خون پسینے سے ملک کا دفاع ناقابل تسخیر ہوا۔

وطن کے دفاع کیلئے جانیں قربان کرنیوالے بہادر فوجیوں کے خاندانوں پر قوم کو فخر ہے۔ انھوں نے فوجی مشقوں میں مدعو کیے جانے پر بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی سے اظہار تشکر کیا۔ بی بی سی نے بتایا کہ وزیراعظم نے امریکی ڈرون حملے میں تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے ہلاکت کے بعد اپنی پہلی تقریر میں ڈرون حملے کا ذکر نہیں کیا۔ نوازشریف نے کہا کہ ان کی حکومت ملک میں خونریزی اور تشدد کا خاتمہ چاہتی ہے لیکن یہ راتوں رات ممکن نہیں ہوگا۔