ایران، امریکا کے وفود کی آمد کا معاملہ، اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی

گیسٹ ہاؤسز کے لیے سختی، مہمانوں کا مکمل ریکارڈ رکھنا اور روزانہ رپورٹ تھانے میں جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے


فوٹو: فائل

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے ایران اور امریکی وفود کی ممکنہ آمد کے پیش نظر سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور پولیس کی جانب سے شہریوں کو اہم ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

ایکسپریس نیوز کوپولیس ذرائع نے بتایا کہ نور خان ائیربیس اور اسلام آباد ائیرپورٹ کے اطراف سیکورٹی ریڈ الرٹ کردی، ائیربیس کے ارگرد علاقوں کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات اعلیٰ سطح کے وفود کے طیاروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہیں، گھروں کی چھتوں پر پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

سیکیورٹی اقدامات سے متعلق بتایا گیا کہ تھانہ نیوٹان، صادق آباد اور چکلالہ کی حدود میں اسپیشل سیکیورٹی حالات نافذ کردیے گئے ہیں، راولپنڈی پہلے مرحلے میں تین تھانوں کی حدود میں رات 12 بجے سے تاحکم ثانی ریسٹورنٹس بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ریسٹورنٹس، پارکس، بیوٹی پارلرز، مارکیٹس بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ اسنوکر کلبز، فٹنس جمز، پان شاپس، کھوکھے، باربر شاپس، بینک اور بیکریاں بھی تاحکم ثانی بند رکھی جائیں گی، اسی طرح ڈرون اڑانے، ہوائی فائرنگ، کبوتر بازی پر مکمل پابندی ہوگی اور پولیس نے تمام مارکیٹس میں انتباہی نوٹس تقسیم کرنا شروع کر دیے ہیں۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ احکامات پر عمل نہ کرنے کی ضرورت میں سخت کارروائی کی تنبیہ بھی کردی گئی۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ پبلک ٹرانسپورٹ اور گڈز ٹرانسپورٹ کی بندش کا فیصلہ تاحال نہیں ہوا۔

ذرائع نے بتایا کہ روٹس پر واقع عمارتوں کے مالکان سے سرٹیفکیٹس لینے کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور وفود کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی اقدامات، روٹ پر آنے والے گھروں، دکانوں، پلازوں اور ہوٹلز کے مالکان ذمہ داریوں کے پابند ہوں گے۔

پولیس نے ہدایت کی ہے کہ روٹ کے دوران پارکنگ پر پابندی اور غیر متعلقہ افراد کے داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کے لیے سختی، مہمانوں کا مکمل ریکارڈ رکھنا اور روزانہ رپورٹ تھانے میں جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چھتوں، بالکنیوں اور کھڑکیوں سے نقل و حرکت محدود ہوگی اور خلاف ورزی پر مالک ذمہ دار ہوگا، کسی بھی مشکوک سرگرمی یا سیکیورٹی خلل کی صورت میں فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ہوگی۔

راولپنڈی میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامت

ادھر راولپنڈی میں سی پی او سید خالد محمود ہمدانی کی زیر صدارت پولیس لائنز ہیڈ کوارٹرز میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جہاں شہر میں فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کا حکم دیا گیا اور بتایا گیا کہ غیر ملکی وفود کی آمدورفت کے حوالے سے سیکیورٹی کے غیرمعمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔

سی پی او سید خالد محمود ہمدانی کے احکامات کے مطابق راولپنڈی پولیس کی جانب سے شہر بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کردیا گیا ہے، سئنیر افسران فیلڈ میں موجود رہ کر ڈیوٹیز کی سپرویژن کررہے ہیں۔

راولپنڈی پولیس کے مطابق پولیس کے 10 ہزار سے زائد افسران و اہلکار سیکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، 600 سے زائد اسپیشل پکٹس سمیت شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں کی کڑی نگرانی، اہم شاہراہوں پر اضافی نفری تعینات، ایلیٹ کمانڈوز کی اسپیشل ٹیمیں اور تربیت یافتہ اسنائپرز بھی ڈیوٹی پر تعینات کیے گئے ہیں۔

سی پی او نے بتایا کہ ایلیٹ فورس، ڈولفن فورس، تھانوں کی موبائلز سمیت دیگر کوئیک رسپانس یونٹس کی ٹیمیں الرٹ گشت پر مامور کردی گئی ہیں، شہر بھر میں سخت چیکنگ کا نظام نافذ ہے اور داخلی پوائنٹس پر سکیورٹی مزید بڑھا دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہر بھر میں سرچ، سویپ، کومبنگ اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مزید تیزی، مشتبہ افراد کی کڑی نگرانی اور چیکنگ کا عمل بھی جاری ہے، حساس تنصیبات، اہم سرکاری و نجی مقامات اور قیام گاہوں کے اطراف بھی سیکیورٹی مزید سخت اور کڑی نگرانی جاری ہے۔

سی پی او خالد ہمدانی نے بتایا کہ سیف سٹی، سی سی ٹی وی کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے 24/7 مانیٹرنگ، کنٹرول روم سے لمحہ بہ لمحہ صورت حال کی رپورٹس افسران چیک کررہے ہیں، ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی ٹریفک پلان تشکیل اور شہریوں کی سہولت کے لیے متبادل راستے فراہم کردیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ فول پروف سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے راولپنڈی پولیس تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔