پاکستانی اسپنرز پروٹیز پر سحر پھونکنے کیلیے تیار

فتح کی پوری کوشش کرینگے،بیٹسمینوں کو بھی بولرزکا بھرپورساتھ دیناہوگا(مصباح)آملا کی آمد سے دبائو کم ہوگیا، ڈی ویلیئرز


AFP/Sports Desk November 06, 2013
ابوظبی: شیخ زید کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستانی کپتان مصباح الحق اور نوجوان بیٹسمین عمر اکمل ٹریننگ کررہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان تیسرا ون ڈے انٹرنیشنل بدھ کو ابوظبی میں کھیلا جا رہا ہے، پُرجوش گرین شرٹس اسپنرز ایک بار پھر پروٹیز پر سحر پھونکنے کیلیے تیارہیں۔

گذشتہ میچ میں شاہدآفریدی اور سعید اجمل کی عمدہ بولنگ نے ہی ٹیم کو فتح دلائی تھی، ایک اور جیت یقینی بنانے کے لیے پلیئنگ الیون میں چند تبدیلیاں متوقع ہیں،آئوٹ آف فارم ناصر جمشید اور عمر امین میں سے کسی ایک کی چھٹی ہوسکتی ہے، اسد شفیق اور صہیب مقصود موقع پانے کے منتظر ہیں، وہاب ریاض کو جنید خان کیلیے جگہ خالی کرنا پڑسکتی ہے۔ کپتان مصباح الحق نے کہاکہ مشکل ترین سیریز کا ایک اور سخت معرکہ درپیش ہے، فتح کی پوری کوشش کریں گے، بیٹسمینوں کو بھی بولرز کا بھرپور ساتھ دینا ہوگا۔ دوسری جانب پروٹیز بھی اپنی برتری کیلیے پُرعزم ہے، ہاشم آملا کی صورت میں بیٹنگ لائن کو آکسیجن میسر آگئی،ڈیل اسٹین بھی تباہی مچانے کیلیے تیار ہیں،کپتان ابراہم ڈی ویلیئرز نے کہاکہ آملا کی آمد سے تھوڑا دبائوکم ہوجائے گا، ہماری ٹیم دشوار گزار صورتحال میں بھی اچھا پرفارم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان پانچ میچز کی سیریز اپنے وسط تک پہنچ چکی اورمقابلہ 1-1 سے برابر ہے، دونوں ہی سائیڈز اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ جس نے تیسرے میچ میں فتح حاصل کی اس کے سیریز پر قبضے کا امکان بڑھ جائے گا، پاکستان ایک بار پھر اسپن کے بل بوتے پر پروٹیز کو زیر کرنے کیلیے تیار ہے، دوسرے ون ڈے میں آفریدی اور سعید اجمل کی عمدہ بولنگ نے ٹیم کو فتح دلائی تھی، ان کی مدد کیلیے حفیظ بھی موجود ہیں، ان تینوں کا سامنا حریف سائیڈ کیلیے آسان نہ ہو گا۔ دونوں ٹیمیں بیٹنگ کی ناکامی کا رونا رو رہی ہیں، ابھی تک کوئی پاکستانی بیٹسمین غیرمعمولی کھیل پیش نہیں کر پایا،ناصر جمشید، عمر امین اور عمر اکمل اننگز میں خاطر خواہ حصہ نہیں ڈال پائے ہیں، عمر امین کی جگہ اسد شفیق کو ملنے کا امکان زیادہ ہے جبکہ صہیب مقصود بھی موقع پانے کے منتظر ہیں۔



وہاب ریاض نے گذشتہ میچ میں صرف 2 اوورز کیے، ان کی جگہ جنید خان کو میدان میں اتارا جاسکتا ہے۔ خود کپتان مصباح الحق نے بھی ٹیم میں 1،2 تبدیلیوں کا عندیہ دیا ہے، انھوں نے کہاکہ تیسرا میچ بھی مشکل سیریز کا ایک اور دشوار معرکہ ثابت ہوگا جسے بھی کامیابی ملی اس کے باقی میچز کیلیے حوصلے بلند ہوجائیں گے، انھوں نے بیٹسمینوں سے بھی فتوحات میں حصہ ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہی وقت ہے کہ بیٹسمین بھی اب اچھا پرفارم کریں، اس سے ہماری بولنگ کو مزید میچز جتوانے کا موقع میسر آئے گا۔دوسری جانب جنوبی افریقہ کے ٹاپ آرڈر کو پھر ہاشم آملا سنبھالیں گے، آئوٹ آف فارم کولن انگرام پہلے ہی واپس لوٹ چکے، اسکواڈ میں ڈیل اسٹین بھی شامل ہوچکے ہیں، کپتان ابراہم ڈی ویلیئرز خاص طور پر آملا کا ساتھ حاصل ہونے پر کافی خوش ہیں، انھوں نے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ الیون میں چند تبدیلیاں کافی فائدہ مند ثابت ہوں گی، خاص طور پر بیٹنگ میں ہم کافی دبائو کا شکار تھے جو آملا کی موجودگی سے کم ہو جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں دوسرا میچ ہارنے سے گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ سیریز اب بھی برابر اور ہمارا ورلڈ کلاس یونٹ مشکل ترین حالات میں بھی اچھا پرفارم کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ ہاشم آملا کا پاکستان کے خلاف ریکارڈ کافی بہتر ہے، انھوں نے57.60 کی اوسط سے رنز اسکور کیے جبکہ ان کی مجموعی اوسط 54.85 ہے،آملا نے اپنی 11 ون ڈے سنچریوں میں سے 2 پاکستان کے خلاف بنائی ہیں۔ فاف ڈو پلیسی کا یہ سال زیادہ بہتر نہیں رہا مگر ایک انوکھا اعزاز انھیں حاصل ہے، انھوں نے رواں برس ون ڈے میں 13 کیچز تھامے، اس فہرست میں ان سے آگے 15کیچزکے ساتھ بھارتی سریش رائنا موجود ہیں۔