ون ڈے کرکٹ محفوظ اسکور کے بارے میں بحث چھڑ گئی

بھارت اور آسٹریلیا کی سیریز میں تمام بولرز اوسط درجے کے ثابت ہوئے، ایکسپرٹ


Sports Desk November 06, 2013
آسٹریلیا اور بھارت کی سیریز میں تین بار 700 سے زیادہ رنز بنائے گئے تو صرف کھیل کے قوانین پر ہی الزامات نہیں ڈالے جا سکتے،ماہرین۔ فوٹو: بی سی سی آئی/فائل

ون ڈے کرکٹ میں محفوظ اسکور کے بارے میں بحث چھڑ گئی، ایک زمانہ تھا جب50 اوورز میں 250 رنز کو اچھا اسکور مانا جاتا تھا لیکن اب وقت بدل چکا۔

بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان حالیہ سیریز میں 300 سے زیادہ رنز کا ہدف 4 بار کامیابی سے حاصل کیا گیا۔بی بی سی نے اس بارے میں ایک تجزیہ پیش کیا، رپورٹ کے مطابق پہلے کسی ہدف کا تعاقب کرتے وقت جب جیت کے لیے مطلوبہ رنز کی شرح ایک اوور میں 6رنز سے تجاوز کر جاتی تو اسے حاصل کرنا نا ممکن تصور کیا جاتا تھا، البتہ آج کل زیادہ تر میدانوں پر 300رنز بنائے جا رہے اور350 کے اسکور کو ہی قدرے محفوظ سمجھا جاتا ہے، جب تک مطلوبہ رن ریٹ8رنز فی اوور کے نیچے ہو تب ہی کامیابی ممکن سمجھی جاتی ہے۔ ایک ایکسپرٹ نے کہا کہ اگر آسٹریلیا اور بھارت کی سیریز میں تین بار 700 سے زیادہ رنز بنائے گئے تو صرف کھیل کے قوانین پر ہی الزامات نہیں ڈالے جا سکتے، ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ دونوں ٹیموں کے بولرز اوسط درجے کے ثابت ہوئے۔



بھارتی مڈل آرڈر کو2 بار نیست و نابود کرنے والے مچل جانسن نے بھی 2 مواقع پر بیحد خراب بولنگ کی،انھوں نے کبھی بہت زیادہ شارٹ توکبھی بہت زیادہ تیز یا وائیڈ گیندیں کیں۔ محدود اوورزکی کرکٹ اب بولرزکے لیے سازگار نہیں رہی لیکن پاکستانی کے سعید اجمل جیسے چند بولرز اب بھی اپنی برتری قائم رکھے ہوئے ہیں، اگرچہ بھارت نے ناگپور میں آسٹریلیا کے 350 رنز کا کامیابی کے ساتھ پیچھا کر کے فتح حاصل کی مگر اسی دوران شارجہ میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ کی دونوں اننگز کا اسکور 365 رہا، میچ میں ون ڈے کرکٹ کے قوانین نے چھکوں اور چوکوں کی برسات نہیں ہونے دی کیونکہ بازی زبردست اور مقابلہ کانٹے کا تھا۔ ماہرین کے مطابق اگر معیاری بولنگ ہو تو نئے قوانین کے باوجود اچھے میچز دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔