جعلی برآمدات ظاہر کرکے 31کروڑ کی ٹیکس چوری کا انکشاف ریکارڈ چیک کرنیکی ہدایت

مینوفیکچرنگ بونڈڈویئر ہائوسزکا رسک بیسڈآڈٹ کر کے دوہفتے میںرپورٹ پیش کی جائے،چیئرمین ایف بی آرکی ہدایت۔


Irshad Ansari September 03, 2012
مینوفیکچرنگ بونڈڈویئر ہائوسزکا رسک بیسڈآڈٹ کر کے دوہفتے میںرپورٹ پیش کی جائے،چیئرمین ایف بی آرکی ہدایت. فوٹو: عیسیٰ ملک

ISLAMABAD: افغانستان سمیت دیگر ممالک کو اربوں روپے مالیت کی جعلی برآمدات ظاہر کرکے کروڑوں کاٹیکس چوری کرنے کاانکشاف ہوا ہے۔

ایف بی آرکے ذیلی ادارے کسٹمز ڈپارٹمنٹ نے31 کروڑ سے زائد کی ٹیکس چوری کے کیس کا سراغ لگا کر اربوںکی جعلی برآمدات ظاہر کرکے ٹیکس چوری میں ملوث کمپنی میسرز پاکستان ٹیوب ملز پرائیویٹ لمیٹڈکے ایم ڈی شیخ ارشد کو گرفتار کرلیا جبکہ ایف بی آر نے مذکورہ کیس کی بنیاد پر دیگر مینوفیکچرنگ بونڈڈ ہائوسز کے ریکارڈ کی چھان بین کی بھی ہدایات جاری کردیں۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر کیطرف سے 3جولائی 2012 کو لکھے جانے والے لیٹر نمبر C.NO.SS(TPA)Exportdetails/2012 اور ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ کسٹمز ہائوس لاہورکوملنے والی خفیہ معلومات پر لاہور ڈرائی پورٹ مغلپورہ کی طرف سے مینوفیکچرنگ بونڈڈ ویئر ہائوس کا لائنسنس رکھنے والی کمپنی میسرز پاکستان ٹیوب ملز پرائیویٹ لمیٹڈ کا ریکارڈ اوردستاویزات آڈٹ کیلیے حاصل کی گئیں،مذکورہ مینو فیکچرنگ بونڈ ویئرہائوس نے افغانستان کو بڑے پیمانے پر برآمدات ظاہر کررکھی تھیں۔

آڈٹ کے دوران ویئرہائوس سے افغانستان کو برآمدات کے بارے میں دستاویزات پیش کرنے کا کہا گیا تو مذکورہ ویئر ہائوس نے 296 گُڈز ڈکلیئریشن (جی ڈیز) پیش کیں جو کہ 7 اگست2012 کو لیٹر نمبر V-Cus/MBCO/Pipe /Export/55 /201/625 کے تحت تصدیق کیلیے ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ پشاور بھجوائی گئیں۔ دستاویز میں بتایا گیاہے کہ ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ پشاور نے مذکورہ گُڈزڈکلیئریشن کے بارے میں چھان بین کرنے کے بعد 11 اگست 2012 کو لیٹر کے تحت بھجوائے جانے و الے جواب میں بتایا کہ میسز پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ(پرال) نے رپورٹ کیاہے کہ مذکورہ جی ڈیز میں سے202 گُڈز ڈکلیئریشن کا مشین نمبر اور تاریخیں میسز پاکستان ٹیوب ملز پرائیویٹ لمیٹڈ کے بجائے کسی دوسرے برآمد کنندہ اور کلیئرنگ ایجنٹس کی طرف سے فائل کی گئی ہیں۔

جبکہ باقی ماندہ 94 گُڈز ڈکلیئریشن کا مشین نمبر اور تاریخیں میسز پاکستان ریونیو آٹو میشن لمیٹڈ کے ریکارڈ میں نہیں ۔ ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ کیس کی تحقیقات کی روشنی میں میسز پاکستان ٹیوب ملز پرائیویٹ لمیٹڈ پر31 کروڑ 17لاکھ پندرہ ہزار روپے کی ٹیکس چوری پراٹھارہ جون 2001 کو جاری کردہ ایس آر او 450(I)/2001 کے تحت غیر قانونی طور پر ٹیکس سے چھوٹ لینے اور جعلی برآمدات ظاہر کرنے کے الزمات عائد کیے گئے ہیں ۔

مذکورہ الزمات کے تحت میسز پاکستان ٹیوب ملز پرائیویٹ لمیٹڈ کیخلاف مجرمانہ کارروائی شروع کرتے ہوئے ایم ڈی شیخ محمد ارشد کوگرفتار کرلیا گیا،ادھر چیئرمین فیڈرل بورڈآف ریونیو علی ارشدحکیم اور ممبرکسٹمز ریاض خان نے تمام کلکٹریٹس کو ہدایت کی کہ مینوفیکچرنگ بونڈڈ ویئر ہائوسز کا رسک بیسڈ آڈٹ کیا جائے اور دو ہفتے میں اسے مکمل کرکے رپورٹ پیش کی جائے ۔