پاکستانی ٹیم جیتی بازی گنوانے میں ’’ورلڈ چیمپئن‘‘ بن گئی

کپتان صورتحال سے بیحد مایوس،حریف آؤٹ کلاس کر دے تو اور بات ہے مگرفتح کے قریب پہنچ کر ہارنا قبول نہیں،مصباح


Sports Desk November 10, 2013
دباؤ کی صورت میں جتنا پُرسکون رہیں اتنا ہی کامیاب اختتام کا امکان زیادہ ہوتا ہے،کپتان قومی کرکٹ ٹیم۔ فوٹو:اے پی /فائل

لاہور: پاکستانی ٹیم جیتی بازی گنوانے میں ''ورلڈ چیمپئن'' بن گئی، حالیہ سیریز کے ہی 2 میچز میں ایسا کر کے جنوبی افریقہ کو سیریز میں فتح کا موقع فراہم کر دیا۔

کپتان مصباح الحق بھی اس صورتحال سے بیحد مایوس ہیں، ان کے مطابق اگر حریف آئوٹ کلاس کر دے تو اور بات ہے مگر جیت کے قریب پہنچ کر ہارنا قبول نہیں،ایک بار پھر ہم دبائو برداشت کرنے میں ناکام رہے اور میچ کا کامیاب اختتام نہ کر سکے، مصباح نے کہاکہ پلیئرز کو ذہنی طور پر مضبوط ہونا پڑے گا، دبائو کی صورت میں جتنا پُرسکون رہیں اتنا ہی کامیاب اختتام کا امکان زیادہ ہوتا ہے، کپتان کے خیال میں موجودہ ٹیم کو کمزور کہنا غلط ہوگا البتہ ناتجربہ کار ضرور قرار دیا جا سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جنوبی افریقہ نے جمعے کو چوتھا ون ڈے 28 رنز سے جیت کر سیریز بھی3-1 سے اپنے نام کر لی، اب پیر کو شیڈول پانچواں میچ محض رسمی کارروائی ثابت ہو گا، حالیہ سیریز میں ٹیم نے 2 جیتے ہوئے میچز گنوائے، پہلے ون ڈے میں 184کے آسان ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے182پر ڈھیر ہو گئی،آخری6وکٹیں 17 رنز کے دوران گریں۔

اسی طرح جمعے کو چوتھے میچ میں 267کے ہدف کا تعاقب عمدگی سے جاری تھا کہ اچانک بیٹنگ لائن تباہ ہو گئی،آخری 5پلیئرز محض10رنز کے دوران پویلین لوٹے، یوں میچ کے ساتھ سیریز بھی گنوا دی، کپتان مصباح الحق بھی اس صورتحال سے بیحد مایوس ہیں، میڈیا سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ ہم جمعے کو تقریباً جیتا ہوا میچ ہار گئے اس سے شدید مایوسی ہوئی، ایک ٹیم مکمل آئوٹ کلاس کر دے یا آپ کے پاس اس کا کوئی جواب نہ ہو تو وہ الگ بات ہے لیکن اگر جیتی ہوئی بازی گنوائیں تو بہت افسوس ہوتا ہے، انھوں نے کہا کہ ہمیں ذہنی طور پر مضبوط ہونا پڑے گا، دبائو کی صورت میں جتنا پُرسکون رہیں اتنا ہی کامیاب اختتام کا امکان زیادہ ہوتا ہے، ایسے میں اگر ایک اوور بھی خراب کھیلیں تو میچ کی صورتحال تبدیل ہو جاتی ہے، جیسا ہمارے ساتھ 46 اور 47 ویں اوور میں ہوا، ہم اہم مواقع پر دبائو برداشت نہیںکریںگے تو ایسا ہی ہوگا۔



سینئر بیٹسمین نے کہا کہ چوتھے میچ میں یک بعد دیگرے2وکٹیں گرنے سے ایک موقع پر صورتحال بہت خراب ہو گئی، اس کے بعد صہیب مقصود نے عمدہ کھیل پیش کیا، ہم دونوں کے درمیان اچھی شراکت سے ٹیم میچ میں واپس آئی،ایک مرحلے پر30گیندوں پر41رنز درکار اور5وکٹیں باقی تھیں، اس پچ پر یہ مشکل ہدف نہ تھا مگر ایک بار پھر ہم دبائو برداشت کرنے میں ناکام رہے اور میچ کا کامیاب اختتام نہ کر سکے۔انھوں نے کہا کہ پہلے ون ڈے میں اچھی پوزیشن کے باوجود شکست ہمارے لیے مایوس کن تھی، اگر وہ میچ جیت جاتے تو سیریز کا نتیجہ مختلف ہوتا۔ایک سوال پر مصباح الحق نے کہا کہ موجودہ ٹیم کو کمزور کہنا غلط ہو گا البتہ ناتجربہ کار ضرور قرار دیا جا سکتا ہے، ہم نے گذشتہ کچھ عرصے میں اچھا کھیل بھی پیش کیا،اسکواڈ میں زیادہ تر نوجوان پلیئرز موجود اور تجربے کی کمی ہے، اس کے باوجود کھلاڑی دنیا کی ٹاپ ٹیم سے بھی ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔

کپتان نے کہا کہ صہیب مقصود نے ڈیبیو پر زبردست اننگز کھیلی،اس کا ٹمپرامنٹ اچھا اور بہت پُراعتماد کھلاڑی ہے، ٹاپ ٹیم کیخلاف مشکل صورتحال میں بیٹنگ کرتے ہوئے بھی وہ دبائو کا شکار نہ ہوا اور اپنے اسٹروکس عمدگی سے کھیلے، وہ پاکستانی ٹیم کیلیے ایک اچھا اضافہ ہے، نوجوان بیٹسمین کے غیر ذمہ دارانہ شاٹ پر وکٹ گنوانے کے حوالے سے مصباح الحق نے کہا کہ مڈ آن اور آف کے فیلڈر آگے تھے، ایسے میں لوز گیند ملنے پر صہیب نے اونچا شاٹ کھیلا، گوکہ کوشش اچھی تھی مگر ٹائمنگ درست نہ ہونے کے سبب وہ بدقسمتی سے کیچ ہو گیا، میچ میں اس نے بہت مثبت انداز میں بیٹنگ کی، اس دوران جہاں گیپ نظر آیا وہاں رنز بٹورے، مصباح نے کہا کہ ہم کافی عرصے سے بیٹنگ کے شعبے میں جدوجہد کر رہے ہیں اور اس سیریز میں بھی ایسا ہی ہوا، ایسے میں صہیب کی اننگز ٹیم کیلیے مثبت علامت ہے۔

کپتان نے احمد شہزاد کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے پوری سیریز میں سمجھداری سے بیٹنگ کی، اوپنرکے کھیل میں نکھار آنا ٹیم کیلیے اچھی بات ہے، اسی طرح بولرز نے بھی اچھی کارکردگی دکھائی۔65رنز پر وکٹ گنوانے والے مصباح الحق نے کہا کہ جب 10رنز فی اوور کی اوسط سے رنز درکار ہوں تو خطرہ مول لینا ہی پڑتا ہے، اس میں آئوٹ ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، اگر میں آخر تک کھیلتا تو شاید ہماری فتح کا امکان بڑھ جاتا مگر بدقسمتی سے آئوٹ ہو گیا۔