بیٹنگ لائن کی مسلسل ناکامی مصباح بھی ’’پروفیسر‘‘ بن گئے

واویلا مچانے کے بجائے مستقبل میں بہتر نتائج کے لیے سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا


AFP/Sports Desk November 13, 2013
قیادت کرتے رہنے اور ورلڈکپ میں شرکت کرنا چاہتا ہوں، پاکستانی کپتان۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

بیٹنگ لائن کی مسلسل ناکامیوں نے کپتان مصباح الحق کو بھی ''پروفیسر'' بنا دیا، وہ ان دنوں اسی سوچ و بچار میں مصروف ہیں کہ کیسے اس مسئلے سے جان چھڑائی جائے۔

مصباح نے کہاکہ ورلڈکپ 2015 سے قبل جنوبی افریقہ کیخلاف ون ڈے سیریز میں ناکامی نیک شگون نہیں، بیٹسمینوںکی ناقص کارکردگی قابل افسوس اور فکرطلب ہے لیکن اس کا واویلا مچانے کے بجائے مستقبل میں بہتر نتائج کے لیے سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا، سیریز کے آخری میچ میں بھی شکست کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستانی قائد نے کہا کہ بیٹنگ لائن کا مستقل طور پر ناکام ہونا فکرمندی کی بات ہے،ایک کپتان کی حیثیت سے یہ صورتحال میرے لیے کافی پریشان کن اورورلڈ کپ سے قبل خطرے کا اشارہ بھی ہے،مصباح نے کہاکہ کھلاڑیوں کو2 سے زائد سیریز میں مناسب اور موزوں مواقع فراہم کیے گئے مگروہ پرفارم کرنے میں بُری طرح ناکام نظر آئے جو بڑے فکر کی بات ہے۔



مصباح نے کہا کہ اب آہ وبکا،رونے رلانے اور چیخنے چلانے کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ آئندہ ایسی باتوں کااعادہ نہ کرنے کیلیے مل بیٹھیں، ہمیںکوئی تدبیر نکالنا ہوگی،مصباح نے اس عبرتناک شکست کے بعد بھی قیادت کرتے رہنے اورورلڈکپ میں شرکت کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا میں پہلے بھی کہہ چکاکہ جب تک خودکو فٹ محسوس کیاکھیلتا رہنا چاہتا ہوں،دوسری جانب جنوبی افریقی کپتان اے بی ڈی ویلیئرز نے سیریز میں4-1 کی واضح برتری کیساتھ کامیابی کو ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دیا،انھوں نے کہا کہ کہ سری لنکا سے سیریز میں خراب نتائج کے بعد یہ کامیابی ورلڈکپ کی تیاریوں کیلیے مناسب اورسود مند ثابت ہوگی، انھوں نے کہا کہ اس فتح میں ہمارے تمام کھلاڑیوں، کوچنگ اسٹاف اوردیگر تمام متعلقین کا کردار ہے جو میرے لیے باعث مسرت بھی ہے،سری لنکا کے خلاف1-4 کی شکست کے بعد گرین شرٹس کیخلاف 4-1 کی فتح خوشگوار احساس ہے، جنوبی افریقہ کے قائد نے اعتراف کیا کہ شارجہ کی سلو پچ پر بیٹنگ کرنا کافی مشکل تھا۔