یوم عاشورہ تجدید عہد وفا

دس محرم الحرام ابتدا ہی سے تاریخ انسانی کا ایک اہم دن مانا جاتاہے۔


فوٹو : فائل

دس محرم الحرام ابتدا ہی سے تاریخ انسانی کا ایک اہم دن مانا جاتاہے۔

احادیث مبارکہ کی روشنی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں زندہ بچ جانے کا معجزہ، دریائے نیل سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کا با حفاظت نکل جانا اور فرعون کا غرق ہوجانا، طوفان نوح کے بعد کشتی کا سلامتی کے ساتھ کوہ جودی پر اترنا، حضرت یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ سے باہر نکلنا اور خشکی پر پہنچ جانا، یہ سب اہم واقعات دس محرم کو ہوئے۔ دس محرم ایک مقدس دن کا درجہ رکھتا ہے۔ اس دن کے لیے یہ بھی روایت ملتی ہے کہ قیامت دس محرم کو قائم ہوگی۔

تاریخ اسلام میں دس محرم 60ھ کو سانحہ کربلا پیش آیا، اس لیے دس محرم کو یوم عاشورہ بھی کہا جاتا ہے اور اسلامی دنیا میں دس محرم کو یوم عاشورہ اور سانحہ کربلا کی یاد کے حوالے سے مناتے ہیں اور سوگواران حسینؓ اور ساری دنیا اس معرکہ کرب و بلا سے آشنا ہوتی ہے اور آج بھی تکلیف، غم اور دکھ محسوس کرتی ہے۔ سانحہ کربلا انسانی تاریخ کا المیہ ہے۔ طاغوتی طاقتوں اور آمریت کے خلاف سرفروشانہ جد و جہد کربلا کا پیغام ہے ۔ کربلا حق کی آواز تھی اور رہے گی ۔ حضرت امام حسینؓ حضرت علی کرم اﷲ وجہ کے صاحب زادے، حضرت فاطمۃ الزہرا ؓکے لعل، آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے لاڈلے نواسے تھے۔ آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے، میں حسینؓ سے ہوں اور حسینؓ مجھ سے ہیں۔ حضرت فاطمہؓ رسول اللہﷺ کی چہیتی بیٹی اور جنت میں خواتین کی سردار ہیں۔

حضرت علی کرم اﷲ وجہہ شیر خدا، فاتح خیبر تھے۔ حضرت علیؓ کے متعلق حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ''جس کا مولا میں ہوں علیؓ اس کے مولا ہیں'' ایک جگہ ارشاد فرمایا علیؓ کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی۔ بس میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ''حسنؓ و حسینؓ جنت میں نوجوانوں کے سردار ہیں''۔

ان فضائل ومناقب کا حامل خانوادہ رسولؐ کا جگرگوشہ جو شعور کی اعلیٰ ترین منزل پر ہو تو فسق و فجور کی حاکمیت کو کیسے مان سکتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جب یزید تخت نشین ہوا تو حضرت امام حسینؓ حق اور سچ کے علم بردار بن کر اپنے ناناﷺ کے دین کی ناموس کے لیے نکل آئے۔ مقام ثعلبیہ میں فرزوق مشہور یہودی شاعر ملا اور کہا کہ اہل کوفہ کے دل آپؓ کے ساتھ ہیں اور تلواریں یزید کے ساتھ۔ راستے ہی میں اطلاع مل گئی کہ آپ کے سفیر اور چچا زاد بھائی مسلم بن عقیلؓؓ کو شہید کردیا گیا، مگر آپؓ نے سفر جاری رکھا۔ 2محرم 60ھ کو مقام کربلا میں خیمے نصب کردیے گئے۔

7محرم کو قافلہ حسینیؓ پر پانی بند کر دیا گیا۔ دریائے فرات بدنام ہوگیا۔ دریائے فرات کس کرب سے ان تین دنوں میں گزرا ہوگا اس کا اندازہ ہم سب کرسکتے ہوںگے۔ یہ ایک تاریخی المیہ ہے۔ اس کا جائزہ لیں۔ کیا دریائے فرات میں طغیانی نہیں آسکتی تھی، طغیانی شہر اجاڑ دیتی، کیا فرات سے پانی ابل کر خیمے تک نہیں پہنچ سکتا تھا؟ کیا بارش نہیں ہوسکتی تھی؟ شش ماہے معصوم علیؓ یا ننھی جناب سکینہؓ کے زمین پر ایڑیاں رگڑنے سے کوئی چشمہ ابل نہیں سکتا تھا۔ سب کچھ ممکن تھا، مگر مشیت ایزدی تھی کہ قافلہ حسینیؓ کے ہر فرد کے صبر، استقامت کا امتحان لیا جائے۔ تاریخ میں رہتی دنیا تک بتلایا جائے کہ صبر و استقامت کا عملی مظاہرہ دیکھنا ہو تو قافلہ حسینیؓ، اہل بیت کے نونہالوں کو دیکھو۔ بے موسم کی بھی بارشیں ہوتی ہیں۔ بارش سے قافلہ حسینیؓ کو سیراب کیا جاسکتا تھا مگر آزمائش مقصود تھی۔ قافلہ حسینیؓ کی عظمت دکھانا تھی۔

10محرم کو معرکہ حق و باطل ہوا، یزیدی لشکر نے ایک ایک کرکے قافلہ حسینی کے تمام مرد افراد کو شہید کردیا۔ حضرت علی اکبرؓ حضرت عباسؓ سب ہی شہید ہوگئے۔ چھ ماہ کے حضرت علی اصغر ؓ نے بھی جام شہادت نوش کیا۔ عصر کی نماز میں سجدے میں حضرت امام حسینؓ بھی شہید کر دیے گئے۔

قتل حسینؓ اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

شہادت حسینؓ ، غم حسینؓ ہر دم ، ہر لمحہ مسلمانان عالم کو یاد رہتی ہے۔ یوم عاشورہ در اصل تجدید دین ہے۔ تجدید عہد وفا ہے دین کے لیے صبر، استقامت کی علامت ہے۔ شہادت حسینؓ ایک تاریخ اور ادب کا استعارہ ہے، جدوجہد اور حق کی علامت ہے۔ ادب میں اس موضوع پر سیکڑوں اشعار، نوحے، مرثیے، سوز و سلام پیش کیے گئے، تاریخ کا ہر ذی شعور امام عالی مقام حسینؓ کی شہادت کو تسلیم کرتا اور سر تسلیم خم کرتا ہے۔ حسینؓ کل بھی مینارہ نور تھے اور آج بھی ہم سب کہتے ہیں حسینؓ ہمارے ہیں۔