راولپنڈی اسلام آباد طالبان کے روپ میں بھتہ خور گروہ سرگرم

عدم ادائیگی یا پولیس کواطلاع کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں


AFP November 18, 2013
بھتے کے واقعات بڑھ گئے،راولپنڈی چیمبر، 2 سال میں 4 تاجر قتل ہوئے، انٹیلی جنس افسر. فوٹو: فائل

لاہور: جڑواں شہروں اسلام آباد راولپنڈی میں ایک گروہ نے طالبان کے نام پربھتہ خوری کا بازارسرگرم کردیا۔

پاکستانی طالبان کے پرچم والے لیٹرہیڈ پرلکھا تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اﷲ محسودکے دستخط والا خط دوموٹرسائیکل سواروں نے اسلام آباد کے تاجرمحمد (فرضی نام) کے گھرپرپہنچایا جس میں محمد سے کہاگیاتھاکہ ایک طالبان جج نے اسے اسلامی اصولوںکے مطابق زندگی نہ گزارنے کا مرتکب پایاہے اور اسے50 لاکھ روپے جرمانہ کیاگیاہے۔ اسے دھمکی دی گئی کہ اگراس نے پولیس کو اطلاع دی یاجرمانہ ادانہ کیاتواسے سنگین نتائج بھگتناہونگے۔خودکش حملہ آوروں کا ہمارا اسکواڈ بے ایمان لوگوں کو واصل جہنم کرنے کیلیے پہلے ہی تیار ہے۔راولپنڈی ایوان تجارت کا کہنا ہے کہ اس کے ارکان کو باقاعدگی سے ایک لاکھ ڈالرتک بھتہ دینے کے مطالبے موصول ہوتے ہیں اورگزشتہ مہینے ایک پراپرٹی ڈیلر جس نے مطالبہ پورا کرنے سے انکار کردیا اس کے دفترکے دروازے پر دھماکا خیزموادلٹکا ہوا پایا گیا۔



سیکیورٹی اداروں اورعسکریت پسندوںکے ذریعوں نے بتایاکہ محمد کو بھیجے گئے خط پر دستخط جعلی ہیں جومحسودکے دستخط سے کسی بھی صورت نہیں ملتے۔ تاجر محمدنے اے ایف پی کوبتایاجب میں نے خط پڑھا تو میں موت سے ڈر گیا، یہ میری زندگی کا خوفناک ترین تجربہ تھا، میں نہیں جانتا تھا کہ کیاکروں؟میں گھرسے باہرنکلا نہ کام پر گیا ۔ میں اپنے بچوں اور خاندان کے تحفظ سے متعلق پریشان تھا، میں نے خط اہلیہ کو دکھایا لیکن ہم پولیس کے پاس جانے سے خوفزدہ تھے، میری بیوی نے کہاطالبان پولیس اور خفیہ اداروں پر بھی حملہ کررہے ہیں وہ ہمیں ان سے نہیں بچاسکتے۔خط پر فون نمبر اور کال کرنے کا وقت بھی درج تھا اور فون پر بات کرنیوالے نے پشتو لہجے میں بات کی ۔ایک سینئرانٹیلی جنس عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ تاوان نہ دینے پر گزشتہ دوسال میں عسکریت پسندوں نے4تاجروں کو قتل کیا۔ پاکستانی طالبان کاروپ دھارنا آسان کام ہے، متاثرین طالبان سے ڈرتے ہوئے پولیس کو رپورٹ نہیں کرتے اور مجرموںسے تعاون کرتے ہیں۔