تھرکول پروجیکٹ سندھ حکومت کا ترک کمپنیوں سے معاہدہ

یادداشت کے تحت ترک کمپنیاں تھرکول منصوبے کیلیے100فیصد سرمایہ کاری کاانتظام کریں گی


Staff Reporter November 22, 2013
توانائی کی پیداوار کیلیے کول مائننگ کی ترقی چاہتے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ،تقریب میں گفتگو۔ فوٹو: فائل

حکومت سندھ اورترکی کی 2کمپنیوں سینکوھولڈنگ اورٹییوجن (ایس ٹی ) کے مابین انرجی اورتھر کوئلے کی ترقی میں سرمایہ کاری کیلیے ایک یادداشت نامے پردستخط کیے گئے ہیں۔

یہ یادداشت حکومت سندھ کے اس فیصلے کی کڑی ہے جس کے تحت تھرکے کوئلے کے بلاک عالمی شہرت یافتہ اورتجربے کار کمپنیوں کو دیے جائیں گے،یادداشت نامے پردستخط کے حوالے سے جمعرات کو وزیراعلیٰ ہائوس میں تقریب ہوئی، یادداشت نامے پر حکومت سندھ کی جانب سے سندھ سرمایہ کاری بورڈکے ڈی جی محمدریاض الدین جبکہ ترکی کی کمپنیوں کی جانب سے عبدالقادرگونگلواورفریدوںکورکمزنے دستخط کیے۔ یادداشت کے تحت ترکی کی کمپنیاں ایس ٹی تھرکول کے ایوارڈ کے مرحلے اوراس منصوبے کیلیے سوفیصد فنانسنگ کاانتظام کریںگی،ایس ٹی سندھ حکومت کوایسی معلومات فراہم کرے گی جس کے تحت زمین کی فراہمی،لیٹر آف کریڈٹ اور معاہدے پر عملدرآمد میں مدد ملے گی،ترکی کی کمپنیاں 31 دسمبر 2014 تک فنانشل کلوزننگ کویقینی بنائیں گی اوراس منصوبے پر عملدرآمدکو4سالوں کے اندریقینی بنانے کیلیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کارلائیں گی۔



کانکنی(Minng)کیلیے انجنیئرنگ اورتعمیراتی کام کا آغاز دسمبر2014پر یا اس سے قبل ہوگا،حکومت سندھ اجازت نامے ،زمین کی فراہمی، تھربلاکس کیلیے مائنگ لائنس،سرکاری، نیم سرکاری اور این جی اوزسے کنسیشن ایگریمنٹ سمیت تمام ترسہولیات فراہم کریگی۔اس موقع پروزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ توانائی کی پیداوارکیلیے کول مائننگ کی ترقی، گھریلو استعمال اورایکسپورٹ کیلیے ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ترقی چاہتے ہے تاکہ سندھ کے لوگ معاشی طور پر مستحکم ہو سکیں۔ صوبائی مشیر خزانہ سید مراد علی شاہ نے میڈیاکے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کے بحران سے نکلنے کیلیے حکومت سندھ اپنے دستیاب وسائل باالخصوص تھر کے معیاری کوئلے، گیس اور سندھ کے ساحلی علاقوں کے ونڈ کاریڈور کے وسائل استعمال کرنا چاہتی ہے،توانائی کے بحران سے نمٹنانہ صرف وفاقی حکومت بلکہ حکومت سندھ کیلیے بھی چیلنج ہے۔