آمدنی اور اثاثے چھپانے والے ڈاکٹروں کے خلاف ایف بی آر کا کریک ڈاؤن

ویب ڈیسک / احتشام مفتی  منگل 18 فروری 2020
 نجی کلینک چلانے والے ڈاکٹرز کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی، ذرائع۔ فوٹو: فائل

نجی کلینک چلانے والے ڈاکٹرز کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی، ذرائع۔ فوٹو: فائل

کراچی: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے حقیقی آمدنی اور اثاثے چھپانے والے ڈاکٹروں کے خلاف کریک ڈائون کا آغاز کردیا ہے۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق ایف بی آر حکام کو اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ صحت کےشعبہ جاتی  بنیادوں پر اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی بڑی تعداد مختلف نجی اسپتالوں اور کلینکس میں مختلف اوقات میں خدمات انجام دے کر یومیہ بنیادوں پرقابل ٹیکس آمدنی کماتے ہیں، لیکن ایف بی آر کو حقیقی آمدن ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام حقائق کی بنیاد پرایف بی آر نے مطلوبہ ٹیکسوں کی ادائیگیاں نہ کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف گھیرا تنگ کردیا ہے اور آر ٹی او ٹو کراچی نے شہر کے ہسپتالوں کو باقاعدہ نوٹسز ارسال کردیئے ہیں جس میں شہر کے 17 اسپتالوں سے ڈاکٹروں کا ڈیٹا طلب کیا گیا ہے،اسپتال انتظامیہ سے خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں کی تعداد، نام، ان کے قومی شناختی کارڈز طلب کیے گئے ہیں، جب کہ ایف بی آر کی جانب سے نجی کلینک چلانے والے ڈاکٹرز کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر حکام نے ڈاکٹروں کے بینک اکائونٹس کی تفصیلات اور بیرون ملک دوروں کا ریکارڈ بھی حاصل کرلیے ہیں اور جاری کردہ نوٹسز کی عدم تعمیل، مقررہ وقت تک ڈیٹا نہ دینے والے اسپتالوں پر سیکشن 182 اور انکم ٹیکس آرڈینیس کے سیکشن 191کے تحت جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ شہر کے دو بڑے نجی اسپتالوں کی جانب سے اپنے ڈاکٹروں کی مقررہ مدت تک تفصیلات کی عدم فراہمی پر ان پر جرمانے بھی عائد کردیئے گئے ہیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔