ایران کے جوہری پروگرام پر سمجھوتہ طے پا گیا

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کے بعد ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر معاہدہ طے پا گیا ہے۔


Editorial November 24, 2013
ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے،جوہری پروگرام کی پاسداری کریں گے لیکن جوہری پروگرام بنیادی حق ہے، ایرانی وزیر خارجہ

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کے بعد ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت جہاں ایران اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کرے گا وہیں اس کے بدلے میں اسے پابندیوں میں نرمی کی بدولت تقریباً سات ارب ڈالر بھی حاصل ہو سکیں گے۔ یہ معاہدہ سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں پانچ روزہ بات چیت کے نتیجے میں طے پایا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون، امریکی صدر بارک اوبامہ، ایرانی صدر حسن روحانی اور یورپی یونین کے علاوہ ایران کے سب سے بڑے مخالف اسرائیل نے بھی اس سمجھوتے کا خیر مقدم کیا ہے۔ امریکا نے اس معاہدے کو جامع حل کی جانب 'پہلا قدم' قرار دیا ہے۔ اس سمجھوتے کے بعد ایران پر امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کی طرف سے عاید بہت سی پابندیاں ختم ہو جائیں گی اور اس کے لیے اربوں ڈالر کے فنڈز بھی جاری ہو جائیں گے۔

پاکستان کے لیے ایران کے اس سمجھوتے کا روشن پہلو یہ ہے کہ ایران سے گیس پائپ لائن لینے کے جس منصوبے پر امریکا بہت پیچ و تاب کھا رہا تھا اب اس کے اعتراضات ختم ہو جائیں گے اور پاکستان کو بھی اپنی توانائی کی ضروریات کا حل اپنے پڑوس سے ہی مل جائے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بھارت بھی حسب سابق آئی پی آئی کے اوریجنل منصوبے میں دوبارہ شامل ہو جائے جس سے وہ امریکا کے ڈر سے شروع ہی میں الگ ہو گیا تھا۔ امریکا پاکستان پر تاجکستان بذریعہ افغانستان گیس لینے کے جس متبادل منصوبے (تاپی) پر زور دیتا رہا ہے پاکستان کو وہ بھی لے لینا چاہیے تا کہ یہاں صنعت و حرفت کو بھی عروج حاصل ہو سکے۔ دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی سمجھوتہ طے پانے کی تصدیق کر دی ہے۔