انڈس اسپتال میں ملک کا پہلا مرکزی بلڈ بینک قائم

خون کی فراہمی نفع نقصان کے بغیر کی جائیگی، صرف اسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کو خون فراہم کیا جائیگا، پروفیسر عبدالباری


Staff Reporter November 26, 2013
مریض سے ڈونر نہیں لیا جائیگا،انڈس بلڈ سینٹر سے تمام اسپتالوں کوانٹرلنک کیا جائیگا،محکمہ صحت4 سال سے سینٹرل الائزڈ بلڈ بینک قائم نہیں کر سکی ۔ فوٹو : فائل

انڈس اسپتال نے ملک میں پہلا مرکزی بلڈ بینک قائم کردیا۔

جس نے کراچی میں محفوظ انتقال خون کی فراہمی بھی شروع کردی ہے، انڈس اسپتال کے سینٹرالائزڈ بلڈ بینک سینٹر سے شہر کے تمام سرکاری ونجی اسپتالوں کو انٹرلنک کیاجائیگا، انڈس بلڈ بینک سے محفوظ خون کی فراہمی کیلیے مذکورہ اسپتال انڈس اسپتال کے بلڈ سینٹر سے رابطہ کرکے خون حاصل کرسکے گا، انڈس اسپتال انتظامیہ نے ملک میں پہلی بار بین الاقوامی تصورکو اجاگر کیا ہے کہ متاثرہ مریض کوخون کی ضرورت پڑنے پر پریشانی کا سامنانہ کرنا پڑے، مریض جس اسپتال میں زیر علاج ہو گا اس اسپتال کی انتظامیہ انڈس اسپتال کے بلڈ سینٹر سے رابطہ کرکے نفع نقصان کے بغیر خون حاصل کر سکے گی اور مریض سے ڈونر بھی نہیں لیا جائیگا تاہم خون کی اسکریننگ کی مد میں اسپتال سے رقم وصول کی جاسکے گی۔

انڈس اسپتال پہلے مرحلے میں اسپتالوں کو پارٹنر بنائے گا، انڈس اسپتال محفوظ خون کی فراہمی کیلیے اپنی جدید مخصوص کولڈ اسٹوریج والی وین میں خون کی ترسیل کریگا، اس سے قبل ضرورت مندوں کوخون کا عطیہ دینے اوراسکریننگ کی مد میں رقم وصول کرنے کے بعد خون فراہم کیاجاتا تھا، تفصیلات کے مطابق انڈس اسپتال کی انتظامیہ نے اپنی مدد آپ کے تحت ملک کا پہلا سینٹرلائزڈبلڈ سینٹر بینک قائم کردیا ہے جس نے گزشتہ روز سے ضرورت مندوں کو محفوظ انتقال خون کی فراہمی بھی شروع کردی ہے۔



اسپتال کے سربراہ پروفیسر عبدالباری خان نے ایکسپریس کو بتایا کہ انڈس بلڈ سینٹر سے تمام نجی و سرکاری اسپتالوں کوانٹرلنک کیاجائیگا اورجس اسپتال میں مریضوں کو خون کی ضرورت ہوگی اس اسپتال کی انتظامیہ انڈس بلڈ سینٹر سے رابطہ کرے گی، مریض کی ضرورت کے مطابق خون کے اجزا یا ہول خون مذکورہ اسپتال کوفراہم کیاجائیگا، انڈس اسپتال کی مخصوص کولڈ چین اسٹوریج وین کے ذریعے خون کی فراہم ہو گی اور یہ خون نفع نقصان کے بغیر فراہم کیا جائیگا، انھوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں ضرورت مند مریضوں کو خون کی فراہمی سرکاری سطح پر سینٹرل الائزڈ بلڈ بینک یا حکومت کی ذمے داری ہوتی ہے لیکن پاکستان میں متاثرہ مریضوںکے اہلخانہ کو خون کی فراہمی کا بندوبست کرنے کیلیے کہا جاتا ہے ۔

جس پر مریض کے تیماداروں کو خون کے بدلے خون کا عطیہ اور اسکریننگ کی مد میں رقم بھی وصول کی جاتی ہے، انھوں نے کہا کہ انڈس اسپتال خون کے بدلے خون کے تصورکو ختم کرکے بین الاقوامی طرز پر نئی اسکیم متعارف کرارہا ہے، اس سلسلے میں انڈس اسپتال تمام اسپتالوں کو اپنا پارٹنر بنا رہا ہے تاکہ کسی بھی اسپتال میں زیرعلاج مریض کوخون کی ضرورت پڑنے پر خون فراہم کیاجاسکے، پروفیسر عبدالباری نے بتایا کہ انڈس اسپتال کے بلڈ بینک سے پلیٹ لیٹ، پلازمہ اور خون کے سرخ و سفید اجزا بھی حاصل کیے جا سکے گے۔

بلڈ بینک سینٹر میں بیک وقت ایک ہزار محفوظ خون کی بوتلوں اور خون کے دیگر اجزا رکھنے کی صلاحیت ہے، انھوں نے کہا کہ سینٹرل الائزڈ بلڈ بینک شہر کے سرکاری و نجی میڈیکل کالجوں، یونیورسٹیوں اور دیگر اداروں میں رضاکارانہ خون کے عطیات کے کیمپس لگائے گی تاکہ شہریوں کوضرورت پڑنے پر بروقت اور محفوظ انتقال خون کی فراہمی ممکن ہو سکے، واضح رہے کہ صوبائی محکمہ صحت نے جرمن ڈیولپمنٹ بینک کے اشتراک سے5 سال سے سینٹرل الائزڈ بلڈ بینک کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، اس منصوبے کے تحت کراچی کے قطر اسپتال میں ایک سینٹرل الائزڈ بلڈ بینک قائم کرنا تھا تاہم 4 سال گزرنے کے بعد بھی سینٹرل الائزڈ بلڈ بینک قائم نہیں کیاجاسکا، یہ کام دنیا بھر میں بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کا ہوتا ہے۔

تاہم سندھ میں سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کے غیر فعال ہونے کی وجہ سے کراچی سمیت صوبے میں آج تک سینٹرل الائزڈ بلڈ بینک قائم نہیں کیا جا سکا جس کی وجہ سے نجی بلڈ بینکوں کا کاروبار تجارتی بنیادوں پر جاری ہے، نجی بلڈ بینکوں سے حاصل کی جانے والی ایک خون کی بوتل کے ساتھ مریض کے اہلخانہ سے ایک بوتل خون کا عطیہ لیا جاتا ہے اور خون کی اسکریننگ کے نام پر مریض سے ایک ہزار سے12سو روپے بھی وصول کیے جاتے ہیں، سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کے غیر فعال ہونے سے کراچی میں خون کی تجارت کا کام عروج پر جاری ہے جس پر صوبائی حکومت نے بھی آنکھیں بند کررکھی ہیں۔