افسران کوضم کرنیکاقانون کیسملازمین فریق بن سکتے ہیںعدالت

سرکاری ملازمین کو اطلاع دینے کیلیے اخبارات میں اشتہار شائع کرانے کا حکم


Staff Reporter September 05, 2012
سرکاری ملازمین کو اطلاع دینے کیلیے اخبارات میں اشتہار شائع کرانے کا حکم فوٹو : فائل

سپریم کورٹ نے صوبہ سندھ کے گریڈایک سے گریڈ20 تک کے ملازمین کو موقع دیا ہے۔

اگر وہ چاہیں تو ڈیپوٹیشن افسران کو ضم کیے جانے کیخلاف مقدمے میں فریق بننے کیلیے عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں،جسٹس انور ظہیر جمالی ، جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس اطہر سعید پر مشتمل بینچ نے اس ضمن میں سیکریٹری سروسز کو اشتہار نمایاں اخبارات میں شائع کرانے کا بھی حکم دیا ہے۔

بینچ نے افسران کو ضم کیے جانے کے قانون کیخلاف دائر درخواست کی سماعت (آج) بدھ کیلیے ملتوی کردی، منگل کو ڈاکٹر عبدالغنی سہتو اور دیگر کی جانب سے چوہدری افراسیاب خان ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ افسران کو ڈیپوٹیشن پر لاکر محکموں میں ضم کیے جانے کا قانون بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

افسران کو گریڈ 17، 18 اور 19میں دیگر محکموں سے ڈیپوٹیشن پر لاکر ضم کردیا جاتا ہے جو کہ قوانین کی خلاف ورزی ہے، ایسے افسران پبلک سروس کمیشن کے امتحان کے بغیر ملازمت حاصل کرتے ہیں اور ضم ہوجاتے ہیں جبکہ ان عہدوں کیلیے مطلوبہ شرائط کو بھی نظرانداز کردیا جاتا ہے، آئین کے آرٹیکل240 کے تحت صوبائی اسمبلی بھی پارلیمنٹ کا حصہ ہے اور قانون سازی کرسکتی ہے مگر آئین کی روح اور بنیادی حقوق سے متصادم کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا۔

انھوں نے موقف اختیارکیا کہ اس طرح کی تقرریاں اور انضمام آئین کے آرٹیکل175کی بھی خلاف ورزی ہے، دوران سماعت ریٹائرڈ افسر عبدالرشید میمن نے بھی فریق بننے کی درخواست دی، عدالت نے سیکریٹری سروسز کو ہدایت کی کہ انگریزی، اردو اور سندھی اخبارات میں اشتہار شائع کرایا جائے اور تمام سرکاری ملازمین کو اطلاع دی جائے کہ ضم کیے جانے کے قانون کیخلاف مقدمے میں فریق بننا چاہیں تو عدالت سے رجوع کریں۔