دیت کی عدم ادائیگی کے باعث رہا نہ ہونیوالے قیدیوں کی تفصیلات طلب

ٹیکس کے نفاذ کا اختیار منتخب نمائندوں کو حاصل ہے اور مدعا علیہان آئینی تقاضے پامال کررہے ہیں.


Staff Reporter September 05, 2012
ہائی کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری پارلیمنٹ سے مشروط کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری کردیےفوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ نے آئی جی جیل خانہ جات کو ہدایت کی ہے کہ وہ صوبے بھر کی جیلوں سے ایسے قیدیوں کا ریکارڈ پیش کریں جو دیت کی رقم ادا نہ کرنے کے باعث قید ہیں ۔

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حکم ننگر پارکر سے تعلق رکھنے والی ہندو خاتون مسمات گیری کی آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جاری کیا، درخواست میں دیت کی رقم کم کرنے کی استدعاکی گئی ہے کیونکہ دیت کی موجودہ رقم کا بندوبست کرنا درخواست گزار کے لیے ممکن نہیں اور اس وجہ سے اس کا بیٹا فریقین میں سمجھوتہ ہوجانے کے باوجود رہا نہیں ہوسکا۔

فاضل بینچ نے سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل کو بھی ہدایت کی کہ وہ اس نکتے پر معاونت کریں کہ عدالت ان قیدیوں کے بارے میں کیا کرسکتی ہے، درخواست گزار کے مطابق اس کا بیٹا دیگر ملزمان کے ساتھ دہرے قتل کے ایک مقدمے میں ملوث تھا لیکن فریقین میں سمجھوتہ ہو گیا اور تقریبا دو سال قبل متعلقہ عدالت نے سمجھوتے کی منظوری دیتے ہوئے مقتولین کے ورثا کو دیت کی رقم ادا کرنے پر ان کی رہائی کے احکامات جاری کردیے ۔

فاضل بینچ نے دوران سماعت آبزرو کیا کہ اس طرح غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات میں بھی بہت سے معاملات پر سمجھوتے ہوجاتے ہیں لیکن دیت کی رقم ادا نہ ہونے کے باعث ملزمان رہا نہیں ہوپاتے، کیا ان کے معاملات کے لیے بیت المال سے زکوۃ یا این جی او کے ذریعے امداد کی جاسکتی ہے، فاضل بینچ نے اس نکتے پر سندھ کے اعلیٰ قانونی افسران کو عدالت کی معاونت کی ہدایت کی ہے۔

علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ نے پٹرولیم مصنوعات اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری پارلیمنٹ کی منظوری سے مشروط کرنے کے متعلق آئینی درخواست پر مدعا علیہان اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیے ہیں ۔

درخواست گزار مولوی اقبال حیدر نے وزارت قانون و انصاف و پارلیمانی امور، وزارت خزانہ ،وزارت پٹرولیم اور اوگرا کو فریق بناتے ہوئے عدالت عالیہ سے استدعا کی ہے کہ مدعا علیہان کو ہدایت کی جائے کہ وہ قیمتوں میں اضافے کی منظوری پارلیمنٹ سے لیا کریں کیونکہ عوام اپنے نمائندے منتخب کرکے پارلیمنٹ میں بھیجتے ہیں ۔

ٹیکس کے نفاذ کا اختیار منتخب نمائندوں کو حاصل ہے اور مدعا علیہان آئینی تقاضے پامال کررہے ہیں، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس عبدالرسول میمن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ پٹرولیم مصنوعات اور سی این جی کی قیمتوںمیں اضافے کو ٹیکس کیسے کہہ سکتے ہیں۔