سنی تحریک کے کارکنان کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائےشکیل قادری

حکومت نے پرامن احتجاج پر کان نہ دھرے تو تحریک کا رخ حکومتی ایوانوں کی طرف موڑ دینگے۔


Staff Reporter September 05, 2012
سنی تحریک کے رہنما شکیل قادری ٹارگٹ کلنگ کے خلاف مظاہرے سے خطاب کررہے ہیں فوٹو : ایکسپریس

پاکستان سنی تحریک کے تحت کراچی اور بلوچستان میں جاری ٹارگٹ کلنگ اور کارکنان کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کیخلاف احتجاجی تحریک کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوگیا۔

پاکستان سنی تحریک کے مرکزی رہنما محمد شکیل قادری نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے ہماری پرامن احتجاجی تحریک پر کان نہ دھرے تو ہم اس تحریک کو حکومتی ایوانوں کی طرف موڑ دیں گے، ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں اپنی راہ میں حائل سیاسی جماعتوں کے کارکنان کو چن چن کر قتل کروا رہی ہیں۔

علامہ سلیم عباس نقشبندی سمیت95افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ٹارگٹ کلر کی سیاسی وابستگی کو منظر عام پر لایا جائے اور اس سیاسی جماعت کے فرقہ وارانہ فسادات پھیلانے کی سازشوں کو بھی بے نقاب کیا جائے، حکومتی اتحادی جماعتوں میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے سمجھوتے کے بعد کراچی کے عوام کو ٹارگٹ کلنگ میں خاطر خواہ کمی نظر آئے گی۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے کارکنان کی ٹارگٹ کلنگ اور قاتلوں کی عدم گرفتاری اور شہر میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت کیخلاف اپنی احتجاجی تحریک کے پہلے مرحلے میں پریس کلب کے باہر بڑے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا، مظاہرے سے آفتاب قادری، فہیم الدین شیخ اور طیب قادری نے بھی خطاب کیا۔

محمد شکیل قادری نے کہا کہ پی ایس ٹی کے کارکنان صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور اپنی سرگرمیوں میں محتاط رہیں، اس موقع پر دیگر مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں علما اہلسنت کے قتل کا نوٹس لیا جائے اوربلوچستان و وفاقی حکومت قاتلوں کی گرفتاری کیلیے ہر ممکن اقدامات کرے،انھوں نے کہاکہ حکومت بدامنی کے خاتمے کیلیے ٹھوس اقدامات کرے۔