پاکستان چوکرزکو تیسری ٹھوکر لگانے کیلیے بے چین

آج آخری ون ڈے، پروٹیز کی لرزتی عمارت سے اسٹین اورکیلس کے بعد اسمتھ دادی کے انتقال کی وجہ سے حصہ نہیں لیں گے۔


Sports Desk November 30, 2013
گرین شرٹس کا 3 تبدیلیوں پر غور، جنید،حفیظ اور آفریدی کی جگہ اسد، عمر امین اور سہیل کی شرکت کا امکان۔ فوٹو: گیٹی امیچج۔

جنوبی افریقہ اور پاکستان کے درمیان ون ڈے سیریز کا تیسرا اور آخری میچ ہفتے کو سنچورین میں کھیلا جائے گا۔

مہمان ٹیم چوکرز کو مسلسل تیسری ٹھوکر لگانے کیلیے بے چین ہے، دوسرے میچ کے آخری 2 اوورز میں جیتی بازی اور سیریز گنوانے والے پروٹیزکی لرزتی عمارت سے ڈیل اسٹین اور جیک کیلس کے بعد ایک اور اینٹ سرک گئی،دادی کے انتقال کی وجہ سے گریم اسمتھ بیٹنگ کی ڈھال نہیں بن سکیں گے، میزبان اسکواڈ مورن مورکل یا فلینڈر میں سے کسی ایک کو کھلائے گا، ہنری ڈیوڈز اور آل رائونڈر وائن پارنیل یا ریان میکلرین کو شامل کرکے رہی سہی ساکھ بچانے کی کوشش کی جائیگی، ناکامی کی نحوست کے بادل چھٹنے کے بعد گرین شرٹس 3 تبدیلیوں پر غور کرنے لگے، انجرڈ جنید خان کی شرکت مشکوک جبکہ محمد حفیظ اور شاہد آفریدی کو آرام دیا جا سکتا ہے، اسد شفیق، عمر امین اور سہیل تنویر کے کھیلنے کا امکان روشن ہو گا۔ کپتان مصباح الحق نے کہاکہ تاریخی فتح پر بیحد خوشی ہے، بلاجواز تنقید ختم ہونے سے دبائو کم ہوگیا۔

جنوبی افریقی بیٹسمین ہاشم آملہ نے کہاکہ ہار جائیں تو باتیں سننا ہی پڑتی ہیں،مایوسی ضرور ہوئی مگر غلطیوں سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھناہوگا۔ تفصیلات کے مطابق سیریز میں فتح سے بلند حوصلہ گرین شرٹس ہفتے کے روز جنوبی افریقہ کو ہوم گرائونڈ پر کلین سوئپ کرنے والی پہلی ایشیائی ٹیم کا اعزاز پانا چاہتے ہیں، دوسری طرف عالمی نمبر ون بھارت کیخلاف سیریز سے قبل اعتماد کی بحالی کیلیے کوشاں میزبان ٹیم کو کم وسائل اور ادھورے ہتھیاروں کے ساتھ جنگ لڑنا پڑ رہی ہے،پاکستان کی 9 وکٹیں اڑانے والی''اسٹین گن'' اور تجربہ کار بیٹسمین کیلس انجریز کے باعث آرام کو ترجیح دینگے جبکہ دادی کے انتقال کے سبب گریم اسمتھ کو بھی چھٹی دیدی گئی، مورن مورکل یا ورنون فلینڈر میں سے کسی ایک کا انتخاب کرکے بولنگ اٹیک مکمل کیا جاسکتا ہے، ہنری ڈیوڈز اور آل رائونڈر وائن پارنیل کی شمولیت سے اب تک متزلزل نظر آنے والی بیٹنگ لائن کو سہارا دینے کی کوشش کی جائیگی۔



کارکردگی میں عدم تسلسل سے پریشان پروٹیز شدت سے منتظر ہیں کہ اسٹین کی طرح دیگر بولرز بھی اہم مواقع پر توقعات کے مطابق کارکردگی پیش کریں، بیٹنگ لائن بھی مراحل کے بجائے میچ میں فتح تک ٹارگٹ کے مطابق کھیلنے کا ہنر سیکھ لے، 41میچز میں 19شکستوں کا سامنا کرنے والی ٹیم کیلیے پاکستان کیخلاف آخری اور بعد ازاں بھارت سے سیریز کے 3 مقابلے ٹیسٹ کیس سمجھے جارہے ہیں،کارکردگی میں بہتری نہ آئی تو آپریشن کلین اپ کے زور پکڑتے مطالبے کو تسیلم کرنا ہی پڑے گا،ہینری ڈیوڈز کے ساتھ ڈیوڈ ملر کو مستقبل کیلیے اپنا کیس مضبوط بنانے کا موقع ملے گا۔ دوسری طرف ناکامی کی نحوست کے بادل چھٹ جانے کے بعد گرین شرٹس 3 تبدیلیوں پر غور کرنے لگے، دوسرے ون ڈے میں ٹانگ پر گیند لگنے سے زخمی ہونیوالے جنید خان کی فٹنس مشکوک ہے، انھیں کھلانے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا جائیگا، پیسر کا خلا سہیل تنویر کی شمولیت سے پُر ہوگا۔ حفیظ اور آفریدی کو آرام دیکر اسد شفیق اور عمر امین کو موقع دیا جاسکتا ہے۔

اوپننگ میں ناصر جمشید کی فارم ایک بار پھر فکر مندی کا سب ہوگی،ان کی جگہ نیا تجربہ کیے جانے کا آپشن بھی موجود ہوگا۔مڈل آرڈر میں مزید استحکام پاکستانی بولرز کا کام آسان بناسکتا ہے۔سیریز میںکامیابی کے باوجود مصباح الحق کلین سوئپ کے بغیر مشن کو مکمل نہیں سمجھ رہے، ان کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں نے تنقید کا جواب پرفارمنس سے دیا، تاریخی فتح پر بے حد خوشی ہے، بلاجواز تنقید ختم ہونے سے دبائو کم ہوگیا۔ ڈیل اسٹین کے نہ ہونے سے بیٹنگ لائن زیادہ بہتر پرفارم کرکے منفرد اعزاز کا مالک بنانے میں اہم کردار ادا کریگی۔ کپتان نے بھی ٹیم میں 2یا 3تبدیلیوں کا اشارہ دیا۔ دوسری طرف پروٹیز بیٹسمین ہاشم آملہ نے پاکستان کیخلاف بہت زیادہ میچز پر دبے الفاظ میں اعتراض کر دیا، انھوں نے کہا کہ ہم یواے ای میں پیش کی جانیوالی کارکردگی کا تسلسل برقرار نہ رکھ سکے،ہار جائیں تو باتیں سننا ہی پڑتی ہیں،مایوسی ضرور ہوئی مگر غلطیوں سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا، انھوں نے کہا کہ ڈیل اسٹین کی کمی محسوس ہوگی تاہم دیگر بولرز بھی عمدہ پرفارم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔