ایف بی آر225کروڑڈالرکے بینک قرض کوٹیکس استثنیٰ دے

مذکورہ کریڈٹ فیسیلٹی سے روپے کی قدر میں بہتری اور ڈالر کی قیمت میں کمی کے امکانات ہیں۔


Irshad Ansari December 01, 2013
قرضوں کے لیے حکومت اور بینک کنسورشیم کے درمیان جلد معاہدے پر دستخط ہونگے۔ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے ایف بی آر کو ادائیگیوں کے توازن اوربجٹری سپورٹ کے لیے بینکوں کے کنسورشیم سے طے پانے والے225 ملین ڈالر کے قرضے ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں سے مستثنیٰ قرار دینے کی ہدایت کردی ہے۔

مذکورہ کریڈٹ فیسیلٹی سے روپے کی قدر میں بہتری اور ڈالر کی قیمت میں کمی کے امکانات ہیں۔ ''ایکسپریس'' کو وزارت خزانہ سے دستیاب دستاویز کے مطابق وزارت خزانہ کی طرف سے ایف بی آر کو کہا گیا ہے کہ بینکوں کے کنسورشیم سے طے پانے والے ساڑھے22کروڑ ڈالر کے قرضے اس پر عائد سود، انتظامی فیس سمیت قرضے سے متعلقہ دیگر تمام اخراجات کو ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں سے مستثنیٰ قرار دیا جائے، قرضوں کے لیے حکومت اور بینک کنسورشیم کے درمیان جلد معاہدے پر دستخط ہونگے۔



وزارت خزانہ نے ان قرضوں اور ان سے متعلق دیگر تمام اخراجات کو ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں سے مستثنیٰ قرار دینے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو سمری بھجوادی ہے جس کے ساتھ 2007 میں جاری کردہ 75 کروڑ ڈالر کے خودمختار بانڈ کے منافع کی آمدنی کو ٹیکس چھوٹ کی کاپی بھی منسلک ہے۔دستاویز کے مطابق وزارت خزانہ کے ایف بی آر کو لکھے جانے والے لیٹر نمبر 4(8)EF(c-III)/2013 میں بتایا گیاکہ بینک کنسورشیم سے لیا جانے والا قرضہ بجٹری سپورٹ اور ادائیگیوں کے توازن کے لیے استعمال کیا جائیگا۔

اس سلسلے میں طے معاہدے کے مطابق اس قرضے کے حصول کے لیے انتظامی فیس ودیگر اخراجات کے علاوہ سود ادائیگی پر عائد تمام ٹیکس حکومت پاکستان کو ادا کرنا ہونگے لہٰذا ایف بی آر مذکورہ قرضے ،اس پر عائد سود ودیگر اخراجات کو ٹیکسوں سے مستثنیٰ قراردے کیونکہ اگر اس پر ٹیکس وصول کیا گیا تو جتنی ٹیکس کی رقم ہوگی اس کے برابر حکومت کو بینک کنسورشیم کو مزید ادائیگیاں کرنا ہونگی۔