این ای ڈی یونیورسٹی بھاری معاوضے پر متعین پرو وائس چانسلر کی ملازمت آئندہ ہفتہ ختم ہوگی

این ای ڈی میں 2 پی وی سی لاکھوں روپے تنخواہ و مراعات لے رہے ہیں۔


Staff Reporter December 02, 2013
ریٹائر افسر ڈائریکٹر انڈسٹریل لائژن بھی بھاری معاوضے پر پھر تعینات،پرووائس چانسلر مظفرمحمود کوکوئی دوسراعہدہ دے کرنواز دیاجائیگا۔ فوٹو: فائل

چانسلر سیکریٹریٹ گورنر ہائوس کی جانب سے سندھ کی سرکاری جامعات میں تعینات پرووائس چانسلرز کی مدت ختم ہونا شروع ہوگئی۔

این ای ڈی یونیورسٹی کے پرووائس چانسلر(ون) ڈاکٹرمظفرمحمود آئندہ ہفتے فارغ ہوجائیں گے ان کے عہدے کی مدت 9 دسمبرکو پوری ہورہی ہے تاہم سرکاری جامعات کا ترمیمی ایکٹ آنے کے بعد اب انھیں دوبارہ باآسانی پرووائس چانسلرکے عہدے پر تعینات نہیں کیاجاسکے گا چونکہ پرو وائس چانسلرکی تعیناتی کے اختیارات حکومت سندھ چانسلر سیکریٹریٹ گورنرہائوس سے اپنے پاس منتقل کرچکی ہے اور پرووائس چانسلرکی تقرری کے لیے انتخاب کااختیار بھی حکومت سندھ کی قائم کردہ تلاش کمیٹی کو سونپا جاچکا ہے جبکہ خود پرووائس چانسلر ڈاکٹر مظفر محمود یونیورسٹی کے اخراجات چلانے کے لیے نجی بینکوں سے بھاری قرضوں کے حصول کے سبب متنازع شخصیت بن کر سامنے آئے ہیں تاہم یونیورسٹی کودرپیش مالی خسارے کی تحقیقات میں ان کوشامل کیے جانے کے بجائے ڈائریکٹرفنانس کے خلاف انکوائری شروع کردی گئی ہے۔



یہ بھی قابل ذکربات ہے کہ این ای ڈی یونیورسٹی میں دو پرووائس چانسلرز (پی وی سی ون اور پی وی سی ٹو) کا تقرر 2 مختلف کیمپسز کی بنیاد پرکیاگیا تھا تاہم دونوں پرووائس چانسلر ایک ہی کیمپس میں بیٹھتے ہیں دونوں پرووائس چانسلرز میں ایک مشترک امر یہ بھی ہے کہ دونوں ہی ریٹائر ہیں دونوں خسارے کے اس بدترین دور میں یونیورسٹی سے لاکھوں روپے تنخواہوں اوردیگرمراعات کی مد میں وصول کررہے ہیں جبکہ ان کے دفاتر پر ہونے والے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔

تاہم حیرت انگیزطورپریونیورسٹی کے نئے وائس چانسلرڈاکٹرافضل الحق خسارے کے دورمیں بھاری تنخواہیں دینے کے باوجود یونیورسٹی سے ریٹائرافسران کوفارغ کرنے کے حق میں نہیں ہیںاور امکان ہے کہ وائس چانسلرکے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے پرووائس چانسلرمظفرمحمود کوکوئی دوسراعہدہ دے کرنواز دیاجائے اس سے قبل اپنی مدت پوری کرنے والے ریٹائر افسر ڈائریکٹر انڈسٹریل لائژن کو بھی بھاری معاوضے پر ایک بار پھر تعینات کیا جاچکا ہے جبکہ ان کی تعیناتی کی سمری گورنر ہائوس مستردکرچکا ہے دوسری جانب اسسٹنٹ پروفیسر انجینئر عثمان علی کی ترقی یہ کہہ کر روکی گئی ہے کہ حکومت سندھ نے نئی تقرریوں پر پابندی عائد کررکھی ہے۔