مہران ہوٹل اور شاہین کمپلیکس فلائی اوورز 4 ماہ میں مکمل کیے جائیں ایڈمنسٹریٹر

تعمیراتی کام کی تیاریاں مکمل کرلیں،ٹریفک فلو کا جائزہ لے لیا گیا ہے،رئوف اختر فاروقی


Staff Reporter December 02, 2013
دونوں منصوبوں کوڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز سے محفوظ رکھا جائے، سینئر انجینئرز۔ فوٹو: فائل

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر رئوف اختر فاروقی نے کہا ہے کہ مہران ہوٹل اور شاہین کمپلیکس چوراہے پر فلائی اوورز کی تعمیر کے سلسلے میں تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔

ٹریفک فلو کا جائزہ لے لیا گیا ہے اور مختلف اداروں کے ساتھ ضروری کارروائی مکمل کرلی گئی ہے، فلائی اوور کے راستے میں آنے والی جن چیزوں کو منتقل کرنا ہے ان پر رپورٹ مرتب کرلی گئی ہے، یہ بات انھوں نے دونوں مقامات کا معائنہ کرتے ہوئے کہی ان کے ہمراہ ڈائریکٹر جنرل محکمہ انجینئرنگ نیاز احمد سومرو اور متعلقہ پروجیکٹ ڈائریکٹرز بھی موجود تھے، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ ڈی آئی جی ٹریفک کے ساتھ دونوں مقامات پر ٹریفک فلو کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے جس کے بعد فلائی اوور کے ڈیزائن میں ضروری تبدیلیاں کی گئی ہیں، انھوں نے کہا کہ آئی آئی چند ریگر روڈ پر آرٹس کونسل کی جانب جانے والے ٹریفک کا فلوصبح اور شام کے اوقات میں 80فیصد ہے جبکہ آئی آئی چندریگر روڈ سے ڈاکٹر ضیا الدین احمد روڈ کی جانب جانے والے ٹریفک کا فلو 15فیصد ہے اور ایس ایم لا کالج کی جانب سے آنے والا ٹریفک جو ڈاکٹر ضیا الدین احمد روڈ کی جانب جارہاہے اس کا فلو 5سے 6فیصد ہے یہاں پر فلائی اوور بننے کے بعد 95 فیصد ٹریفک بغیر سگنل کے گزر سکے گی جس سے اس چوراہے پر ٹریفک کے دبائو کا مسئلہ حل ہوجائے گااور خصوصاً ان افراد کے پٹرول اور وقت کی بچت ہوگی جو آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع دفاتر میں جاتے ہیں۔



انھوں نے کہا کہ ہوٹل مہران پر بننے والے فلائی اوور سے شارع فیصل سگنل فری ہوجائے گی اور صدر سے کینٹ اسٹیشن جانے والی ٹریفک اس فلائی اوور کو استعمال کرے گی،انھوںنے محکمہ انجینئرنگ کو ہدایت کی کہ دونوں فلائی اوورز کے کاموں کے آغاز کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور بھرپور کوشش کی جائے کہ انھیں 3سے 4ماہ میں مکمل کرلیاجائے،دوسری طرف واٹربورڈ کے سینیئر انجینئرز نے بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹر کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ان منصوبوں کو ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز نیاز سومرو کے رحم وکرم پر نہ چھوڑیں بلکہ جس حد تک ہوسکے یہ منصوبے ان کی دسترس سے باہر رکھیں کیونکہ ان میں ان منصوبوں کو تین سے چار مہینے میں کسی طور پر بھی مکمل کرنے کی صلاحیت نہیں،اگر یہ منصوبے نیازسومرو پر چھوڑ دیئے گئے ان منصوبوں کا حشر بھی شاہراہ پاکستان کے فلائی اوورز کی طرح ہوگا، افسران کا کہنا تھا کہ کراچی میں تین سے چار مہینے میں فلائی اوورز کی تعمیر کی روایت قائم ہوگئی تھی تاہم یہ روایت نیازسومرو کی نااہلی کی بھینٹ چڑھ گئی، بلدیہ عظمیٰ کے انجینئرز نے ایڈمنسٹریٹر سے اپیل کی ہے کہ وہ ان منصوبوں کے لیے کسی سنجیدہ ، اہل ، قابل اور انجینئرنگ کے بنیادی اصول سمجھنے والے سینئر انجینئر کو ان منصوبوں کا پروجیکٹ ڈائریکٹر مقرر کریں، نیاز سومرو پر پابندی عائد کی جائے کہ وہ کسی طور پر بھی ان منصوبوں میں معمولی نوعیت کی مداخلت نہیں کریں گے ۔