پاکستان کی درس گاہوں میں اردو کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے احمد شاہ

جنگ سے نفرت اور امن سے محبت کا اعلان کرتے ہیں، پیش کی گئیں قراردادیں


Staff Reporter December 02, 2013
تشد د اور دہشت گردی ختم کرنے کیلیے مذاکرات و مکالمے کا راستہ اختیارکیا جائے۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

چھٹی عالمی اردوکانفرنس کے آخری روزاختتامی اجلاس سے خطاب میں صدرآرٹس کونسل کراچی محمداحمدشاہ نے چند قراردادیں پیش کیں۔

پہلی قرارداد میں کہا گیا کہ جنوبی ایشیا اور دنیا کے دوسرے ملکو ں سے تعلق رکھنے والے ہم اہل قلم اس امر پر اپنے یقین کا اظہار کرتے ہیں کہ امن انسانی معاشرے کی ناگریز ضرورت ہے اور پر امن زندگی گزارنا ہر انسان کا پیدائشی حق ہے جس کے بغیر انسان کی تخلیقی صلاحیتوںکی نشوونما ناممکن ہے، ہم تمام قلمکار اس چھٹی عالمی اردو کانفر نس کے ذریعے جنگ سے نفرت اور امن سے محبت کا اعلان کرتے ہیں، دوسری قرارداد میں کہا گیا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ پاکستان کی درس گاہوں میں اردو کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے،ہم تمام اہل ادب انگریزی زبان کی اہمیت کہ منکر نہیں ہیں ،نئی تہذیب اور نئے علوم سے واقفیت کیلئے دنیا کی دوسری بڑی زبانیں بہت اہمیت رکھتی ہیں لیکن ہمیں اپنی تہذیبی شناخت اردو کو ہی بنانا چاہیے،دنیا میں انہی قوموں نے ترقی کی ہے جنھوں نے اپنی زبان پر فخر کیا اور اسے ذریعہ علم بنایا،تیسری قرارداد میں کہا گیا کہ ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ پاکستانی معاشرے سے تشدد اور دہشت گردی کو ختم کرنے کیلیے افہام و تفہیم اور مذاکرات و مکالمے کا راستہ اختیارکیا جائے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ معاشرے میں فنون لطیفہ کو فروغ دے اور تخلیقی فنکاروں کی ہر طرح سے سرپرستی کرے ۔

چوتھی قرار داد میں کہا گیا کہ ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ پاکستان کے ذرائع ابلاغ حسب توفیق اپنے چینلز پر علمی اور ادبی پروگراموں کو جگہ دیں اور اپنے ''ٹکرز''میں ادبی رسالوں کی اشاعت کی اطلاع ناظر ین کو فراہم کریں، پانچویں قرار داد میں کہا گیا کہ ہم حکومت سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کتابوں،رسائل اور ادیبوں کی آمد و رفت سہل اور آسان بنایا جائے، ادیبوں اور فنکارروں کو پولیس رپورٹنگ سے متشنیٰ ویز ے فراہم کیے جائیں، بیرون ملک کتابوں کی ترسیل کیلیے ڈاک خرچے کو کم کیا جائے، چھٹی قرار داد میں کہا گیا کہ کراچی میں معروف سرکاری لائبریریاں جو فنڈ ز نہ ہونے کی وجہ سے بر باد ہوگئی ہیں۔



ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت وقت ان معروف تاریخی کتب خانوں کو دوبارہ سے زندہ کرے ، ساتویں قرار داد میں کہا گیا کہ دنیا کے بڑے ترقی یافتہ ممالک میں سرکاری سطح پر دنیا کی عظیم کتابوں کے ترجمے کئے جاتے ہیں جو اس قوم اور ملک کی اجتماعی دانش کو وسیع اور معتبر بناتے ہیں ۔ وفاقی سطح پر ایک ''دارالترجمہ '' قائم کیا جائے،آٹھویں قرار داد میں کہا گیا کہ پاکستان میں عورتو ں پر تشدد کے خاتمے ،خو اتین کی تعلیم ،معاشی طور پر پس ماندہ علاقوں کے ادیبوں اور شاعروں کی تخلیقات پر خصوصی توجہ ان کی اشاعت کا بند وبست ،اقلیتوں کے عقائد اور ان کی عبادت گاہوں کا احترام ،معاشرے میں قوت کا برداشت کا قیام پاکستان کی ادیب براداری کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

نویں قرار داد میں کہا گیا کہ پاکستان آرٹس کونسل کراچی کی چھٹی عالمی کانفرنس کے اسٹیج سے ہم یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ بچوں کیلئے ادب تخلیق کرنے والے ادیبوں کی حکومتی ثقافتی اور علمی و ادبی ادارے خصوصی سرپر ستی کریں، بچوں کے ادب کو فروغ دیا جائے، دسویں قرار داد میں کہا گیا کہ شرکاکانفرنس اس امر پر کہ جامعہ کراچی کے بی کام کے نصاب سے اردو کو خارج کردیا گیا، اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر بی کام کے نصاب میں اردو کو شامل کیا جائے، گیارہویں قرار داد میں کہا گیا کہ شرکا کانفرنس پاکستان میں موجود تمام کثیر القومی صنعتی اور تجارتی اداروں سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ کھلاڑیوں کی طرح اہل قلم کے سروں پر بھی اپنا دست شفقت رکھیں،بارہویں قرار داد میں کہا گیا کہ ہم اس چھٹی عالمی اردو کانفرنس میں جنوبی ایشیا کے اہل قلم کی ایک مشترک عالمی ،ادبی تنظیم کے قیام کی تجویز بھی پیش کرتے ہیں۔