آئی سی سی کی کمائی بھارتی کرکٹ بورڈ زیادہ حصہ بٹورنے کیلیے سرگرم

آسٹریلیاکو ہمنوا بنانے کی کوشش،زیادہ آمدنی ہمارے ملک سے آتی ہے،آفیشل


Sports Desk December 03, 2013
بھارتی بورڈ کا اصرار ہے کہ ان کے ملک سے زیادہ ریوینیو اکھٹا ہوتا ہے اس لیے انھیں زیادہ رقم ملنی چاہیے۔

بھارت آئی سی سی کی کمائی سے زیادہ حصہ بٹورنے کیلیے سرگرم ہوگیا، بی سی سی آئی کے صدر سری نواسن نے کرکٹ آسٹریلیا کے چیئرمین والٹر ایڈورڈز کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کی، بھارتی بورڈ کا اصرار ہے کہ ان کے ملک سے زیادہ ریوینیو اکھٹا ہوتا ہے اس لیے انھیں زیادہ رقم ملنی چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ریوینیو سے زیادہ حصہ حاصل کرنے کیلیے اپنی مہم کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے، بی سی سی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ سری نواسن نے گذشتہ ہفتے سنگاپور میں کرکٹ آسٹریلیا کے چیئرمین والٹر ایڈورڈز سے ملاقات کی، یہ بات چیت اس وقت ہوئی جب سنگاپور میں آئی پی ایل فرنچائزز کی2 روزہ ورکشاپ جاری تھی۔ ایک بورڈ آفیشل کا کہنا ہے کہ سری نواسن نے والٹر سے نئے پرافٹ شیئرنگ ماڈل پر بات کی، اس بات چیت کا بنیادی نقطہ یہ تھا کہ آئی سی سی اپنی آمدنی کا 75 فیصد بھارت سے حاصل کرتا ہے، اس لیے ہم زیادہ حصہ مانگنے میں حق بجانب ہیں، سری نواسن یہ مطالبہ اپنے لیے نہیں کررہے۔



بلکہ بی سی سی آئی کی آمدنی اسٹیٹ ایسوسی ایشنز میں گراس روٹ لیول پر کرکٹ کے فروغ کیلیے استعمال کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ آئی سی سی فنانشل اور کمرشل افیئر کمیٹی جلد ہی اس بارے میں بات چیت کرے گی،اس میں بھارت کا مطالبہ بھی زیر غور آسکتا ہے تاہم بی سی سی آئی کو زیادہ منافع پانے کیلیے ورلڈ کپ 2015 تک انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ موجودہ کمرشل کنٹریکٹ تب ختم ہوگا، اس کے بعد نئے فارمولے کا اطلاق ہوگا۔ آئی سی سی کے منافع کی موجودہ تقسیم کے تحت فل ممبرز پاکستان، بھارت، سری لنکا، انگلینڈ، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، بنگلہ دیش اور زمبابوے میں 75 فیصد نفع تقسیم ہوتا جبکہ باقی 25 فیصد ایسوسی ایٹ ممبران کو ملتا ہے۔