مکی آرتھر پاکستان کے بگڑے بچوں کو نہیں بھول پائے

اسپورٹس ڈیسک  اتوار 19 اپريل 2020
وہاب ٹیلنٹ سے انصاف نہ کرسکے، تلخ کلامی بھی ہوئی، سابق کوچ۔ فوٹو: فائل

وہاب ٹیلنٹ سے انصاف نہ کرسکے، تلخ کلامی بھی ہوئی، سابق کوچ۔ فوٹو: فائل

کراچی: مکی آرتھر پاکستان ٹیم کے بگڑے بچوں کو نہیں بھول پائے اور عمراکمل کے ساتھ کام کرنے کی فرسٹریشن اور وہاب ریاض کے ساتھ جھڑپ پر سے پردہ اٹھا دیا۔

مکی آرتھر نے پاکستان ٹیم کی تین برس تک کوچنگ کی تاہم ورلڈ کپ کے بعد کنٹریکٹ میں توسیع نہیں کی گئی۔ ’’پنج ہٹر‘‘ میگزین کوایک انٹرویو میں انھوں نے پاکستان ٹیم کے ساتھ گزارے وقت پر روشنی ڈالی۔

آرتھر نے عمر اکمل کے بارے میں کہا کہ ان کی کیریئر کے آغاز پر درست رہنمائی نہیں ہوئی،اب بہت دیر ہوچکی، یہ کافی افسوس کی بات ہے کیونکہ وہ باصلاحیت کھلاڑی تھے، انھیں کیریئر کے آغاز پر ایسے سخت ہاتھوں کی ضرورت تھی جو مناسب رہنمائی فراہم کرتے،اگر ایسا ہوتا تو عمر اکمل کبھی اس راستے پر نہ چلتے جس کا انھوں نے انتخاب کیا،ان کے ساتھ کام کرنا کافی فرسٹریشن کا باعث تھا،مجھے افسوس ہے کہ عمر کا ٹیلنٹ ضائع ہوگیا اور وہ پاکستان کی تاریخ میں ایسے کھلاڑی کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جو اپنی صلاحیتوں سے انصاف نہیں کرپایا۔

مکی آرتھر نے وہاب ریاض کے بارے میں کہا کہ وہ بھی کافی باصلاحیت مگر اپنی صلاحیتوں کے مطابق پرفارم نہیں کرتے تھے، میری ان سے تلخ کلامی بھی ہوئی، میں مانتا ہوں کہ وہاب سے سختی برتی مگر ایسا ان کی بہتری کیلیے کیا، مجھے خوشی ہے کہ ڈراپ ہونے کے بعد وہ بدلے ہوئے انداز میں ٹیم میں واپس آئے۔

بابر اعظم سے متعلق مکی آرتھر نے کہا کہ وہ انتہائی باصلاحیت ہیں، کیریئر کے آغاز میں ان کو ٹیسٹ ٹیم کا حصہ بنانے پر کافی تنقید بھی ہوئی مگر میں نے واضح کردیا کہ بابر کا کھیل بہتر بنانے کیلیے انھیں سرخ بال کی مشقت سے گزارنا ہوگا،اس آزمائش سے گزر کروہ اس بلند مقام پر پہنچے ہیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔