بلدیاتی اداروں کا رین ایمرجنسی پلان بارش میں بہہ گیا

بدھ کو موسلادھار بارش کے باعث معمولات زندگی درہم برہم ہوگئی


Staff Reporter September 06, 2012
بارش کے پانی کی نکاسی کے ناقص انتظامات کے سبب شارع فیصل پر ٹریفک جام میں گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں. فوٹو : پی پی آئی

WASHINGTON: بدھ کو شہر میں ہونے والی بارش کے ساتھ ہی بلدیہ عظمیٰ سمیت تمام بلدیاتی اورشہری اداروں کا رین ایمرجنسی پلان بھی بہہ گیا۔

بلدیاتی افسران کے اجلاسوں میں بارش کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کیلیے طے کیے گئے اقدامات کاغذوں تک ہی محدود رہے،کراچی کی شہری زندگی درہم برہم ہوگئی ، سرکاری اداروں کی نااہلی کا خمیازہ کراچی کے شہریوں کو بارش جیسی رحمت کو زحمت کی صورت میں برداشت کرنا پڑا ،اس حوالے سے سب سے ابتر کاکردگی کا مظاہرہ بلدیہ عظمیٰ نے کیا۔

بدھ کو شہر میں پیدا ہونے والی صورتحال میں واضح طور پر ایسا محسوس ہورہا تھا کہ شہر میں کوئی بھی ادارہ موجود نہیں ہے ،شہریوں کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ، تفصیلات کے مطابق بدھ کو ہونے والی بارش کے باعث کراچی کے شہریوں کو بدترین صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔

کراچی کی کم وبیش تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں پانی میں ڈوب گئیں اور بارش ختم ہونے کے کئی گھنٹے بعد بھی یہی صورتحال رہی جس سے واضح طور پر ایسا محسوس ہورہا تھا کہ بلدیہ عظمیٰ ، ضلعی میونسپل کارپوریشنز ، کنٹونمنٹ سمیت دیگر اداروں نے جس رین ایمرجنسی پلان کا اعلان کیا تھا۔

وہ بارش کے پہلے قطرے کے ساتھ ہی بہہ گیا اور شہر میں کسی بھی ادارے کی ایسی کوئی کارکردگی نظر نہیں آئی جس سے ایسا محسوس ہوتا ہوکہ سرکاری ادارے بارش کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مستعد تھے یا بارش کے بعد انھوں نے اپنے فرائض کی ادائیگی کا احساس کیا ہوا۔

بدھ کو موسلادھار بارش کے باعث معمولات زندگی درہم برہم ہوگئی، بلدیہ عظمیٰ کراچی اور ضلعی میونسپل کارپوریشنز کی تمام کارکردگی کی قلعی کھل گئی اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث اہم شاہرائیں سمیت سڑکیں و گلیاں اور نشیبی علاقے زیر آب آگئے، سیکڑوں گھروں میں پانی داخل ہوگیا جس کے باعث تمام گھریلو اشیا ضائع ہوگئیں،چند گھنٹے ہونے والی بارش کے باعث شہر کے اہم تجارتی علاقوں میں کئی فٹ پانی کھڑا ہوگیا اوربیشتر اہم شاہراہیں تالاب بن گئیں۔

جس میں کئی موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں ڈوب کر خراب ہوگئیں، شہر میں رین ایمرجنسی پلان کے نفاذ کے باوجود بیشتر شاہراہوں پر بلدیاتی عملہ غائب رہا جس کے باعث صورتحال مزید خراب ہوگئی، بلدیاتی اداروں کی غفلت کے باعث کھلے مین ہولوں اور گٹروں کو بروقت بند نہ کیے جانے کے باعث کئی موٹر سائیکل سوار گٹروں میں گر کر زخمی ہوگئے، گلشن اقبال میں برسانی پانی کی نکاسی کا کام نامکمل ہونے کے باعث رحمتیہ کالونی کے ڈوبنے کا خطرہ لاحق ہوگیا۔

بلدیاتی اداروں کی جانب سے برساتی نالوں کی صفائی نہ ہونے کے باعث شارع فیصل، شاہراہ پاکستان، برنس روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ، صدر ، ابن سینا روڈ، یونیورسٹی روڈ، سرشاہ سلیمان روڈ ، شاہراہ قائدین ، شہید ملت روڈ، طارق روڈ، بہادرآباد، جیل روڈ، جہانگیرروڈ، جمشید روڈ، کورنگی روڈ، ایکسپریس وے اور دیگر اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں برساتی نالے اور سیوریج لائنیں صاف نہ ہونے کے باعث برساتی پانی گھروں میں بھی داخل ہوگیا جس سے مکینوں کی برقی اشیاء تباہ ہوگئیں۔

بلدیہ عظمیٰ کراچی ، ضلعی میونسپل کارپوریشنز اور واٹر بورڈ نے بارش کی پیشگوئی کے باوجود موثر اقدامات نہیں کیے جس کے باعث بارش کے دوران شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،بارش کے بعد بلدیہ عظمیٰ اور ضلعی بلدیاتی اداروں کے افسران صرف فوٹو سیشن کے لیے باہر نکلے اور تصویریں کھنچواکر واپس اپنے دفاتر یا گھروں پر چلے گئے جبکہ کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کے کسی آفیسر نے تو یہ زحمت تک نہیں کی۔