سلفر ملے ڈیزل کا استعمال کینسر دمہ اور پھیپھڑوں کے امراض میں ہولناک اضافہ ہوگیا

پاکستانی ڈیزل میں سلفرکا تناسب1.5فیصد،عالمی تناسب0.05فیصد ہے،کینسر، دمہ، پھیپھٹروں کے امراض کی وجہ ڈیزل کا دھواں ہے


Staff Reporter December 09, 2013
پاکستانی ڈیزل میں سلفرکا تناسب1.5فیصد،عالمی تناسب0.05فیصد ہے،کینسر، دمہ، پھیپھٹروں کے امراض کی وجہ ڈیزل کا دھواں ہے. فوٹو فائل

پاکستان میں سلفر ملے ڈیزل کے استعمال سے کینسر اور دمے کے مرض میں ہولناک اضافہ ہورہا ہے۔

سالانہ ہزاروں افرادکینسر، دمہ اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں پاکستانی گاڑیوں میں استعمال کیے جانے والے ڈیزل میں1.5 فیصد سلفر موجود ہے، ڈیزل میں سلفر کی بہت زیادہ مقدار ہونے کی وجہ سے لاکھوں گاڑیوں کا سالانہ اربوں کا نقصان بھی ہورہا ہے،تفصیلات کے مطابق پاکستان میں بعض مہلک امراض پٹرولیم مصنوعات کی وجہ سے جنم لے رہے ہیں ان امراض میں کینسر، دمہ، سانس، پھیپھٹروں کے امراض شامل ہیں جن کی بنیادی وجہ سلفر ملے ڈیزل کا استعمال بتائی گئی ہے، ماہرین طب کے مطابق پاکستان میں کینسرکے مریضوںکی تعداد 40 لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ ڈیڑھ کروڑ بڑی عمر اور 75 لاکھ بچے دمے کا شکار ہیں۔



ماہرین طب کے مطابق پاکستان میں کینسر، دمہ اورسانس کی دیگر بیماریوں کے پھیلنے کا بڑا سبب ڈیزل میںسلفرکی زائد مقدار بتائی جاتی ہے جبکہ ڈیزل میں سلفرکی مقدار زیادہ ہونے سے گاڑیوں اور ٹیوب ویلوںکے انجنوں، پاور پلانٹس کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے دوسری جانب ڈیزل میں سلفرکی زائد مقدارکی وجہ سے گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھویں میں کاربن مونوآکسائیڈ سمیت دیگر زہر یلے اجزا انسانی صحت کو شدید متاثرکررہے ہیں جس کی وجہ سے کینسر، دمہ، مختلف اقسام کی الرجی اورسانس کی دیگر بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، ماہرین کے مطابق پاکستان میں ڈیزل میں سلفرکا تناسب1.5 فیصد ہے جبکہ عالمی تناسب کے اعتبار سے انجن میں استعمال ہونے کیلیے ڈیزل میں سلفرکا تناسب 0.05 فیصد ہونا چاہیے، واضح رہے کہ سانس کے ذریعے سلفر ڈائی آکسائیڈ انسانی جسم کے اندر جانے سے دمے و دیگر سانس کی بیماریاں جبکہ نائیٹروجن آکسائیڈ سے کینسر لاحق ہوتا ہے۔