چٹاگانگ دھماکے ویسٹ انڈین پلیئرز کے دل دہل گئے

مہمان انڈر19 ٹیم کا دوسرا ایک روزہ میچ منسوخ ہوگیا، ٹور بھی خطرے میں پڑگیا


Sports Desk December 09, 2013
مہمان انڈر19 ٹیم کا دوسرا ایک روزہ میچ منسوخ ہوگیا، ٹور بھی خطرے میں پڑگیا۔ فوٹو: فائل

چٹاگانگ میں دھماکے سے ویسٹ انڈین کرکٹرز کے دل دہل گئے، مہمان انڈر19 ٹیم نے ڈر کے مارے میچ کھیلنے سے انکار کردیا۔

دوسرا ایک روزہ میچ منسوخ کردیا گیا، ٹور بھی خطرے میں پڑگیا، ورلڈ ٹوئنٹی 20 کے میزبان ملک میں سیاسی کشیدگی حد سے زیادہ بڑھ گئی، میگا ایونٹ پر بھی بے یقینی کے سیاہ بادل چھانے لگے۔ تفصیلات کے مطابق ویسٹ انڈیز کی انڈر 19 ٹیم رواں ماہ کے آغاز پر بنگلہ دیش پہنچی ہے، یہاں پر اس نے سات ون ڈے میچز کی سیریز کھیلنی ہے، اتوار کو شیڈول دوسرے میچ کیلیے ویسٹ انڈین یوتھ ٹیم چٹاگانگ میں موجود تھی کہ اچانک اس کے ہوٹل کے سامنے ہی زوردار بم دھماکہ ہوا جس سے نوجوان کھلاڑی بری طرح سہم گئے، جب کچھ صورتحال واضح ہوئی تو انھوں نے ٹیم مینجمنٹ پر واضح کردیا کہ وہ ان حالات میں میچ نہیں کھیل سکتے جس پر ویسٹ انڈین بورڈ کو بھی صورتحال سے آگاہ کردیا گیا ہے۔ اس بارے میں ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمارے کھلاڑیوں کے ٹیم ہوٹل سے تھوڑے ہی فاصلے پر ایک زوردار بم دھماکہ ہوا ہے، کھلاڑی اور ٹیم مینجمنٹ کے اراکان اس دھماکے کا ہدف نہیں تھے اور نہ ہی ہمیں وہاں پر کسی قسم کا کوئی خطرہ ہے مگر اس کے باوجود ہم ٹیم منیجر الٹامونٹ سلومون سے رابطے میں ہیں جوکہ مقامی اتھارٹیز سے باقاعدگی سے تازہ ترین معلومات حاصل کررہے ہیں۔



اضافی سیکیورٹی فراہم کردی گئی ہے مگر پلیئرز بری طرح ڈرے ہوئے ہیں، ہمیں میزبان ملک نے مزید سیکیورٹی بڑھانے کی پیشکش کی ہے اگرچہ دوسرا میچ منسوخ ہوچکا تاہم ٹور کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ بنگلہ دیش نے ہی آئندہ برس مارچ اپریل میں ورلڈ ٹوئنٹی 20 کی میزبانی کرنا ہے تاہم یہاں پر جاری سیاسی کشیدگی نے میگا ایونٹ کو بھی غیریقینی سے دوچار کردیا ہے۔ آئی سی سی پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ وہ مسلسل بنگلہ دیش کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اگر حالات مخدوش ہوئے تو پھر ایونٹ کو کسی جگہ منتقل کرنے پر بھی غور ہوسکتا ہے۔ بنگلہ دیش میں جاری حالیہ کشیدگی میں اب تک درجنوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہیں، اپوزیشن حکومت سے انتخابات کیلیے غیرجانبدار نگران حکومت کا مطالبہ کررہی ہے۔ اس صورتحال میں تشدد کے واؓقعات میں مزید اضافہ ہونے سے آئی سی سی پر بھی ایونٹ کی بنگلہ دیش سے منتقلی کیلیے دبائو بڑھ جائے گا۔