چین کیساتھ دو طرفہ تجارتی حجم 15 ارب ڈالر تک بڑھائیں گے احسن اقبال

اقتصادی راہداری منصوبے سے پوراخطہ مستفیدہوگا،چین اوربھارت بھی تجارت کر سکیں گے،وفاقی وزیر


AFP December 09, 2013
10 ہزار چینی انجینئر100 سے زیادہ بڑے منصوبوں پرکام کررہے ہیں،توقع آئندہ برسوں میں18ارب روپے ڈالرسرمایہ کاری آئیگی،حکام۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیرمنصوبہ بندی اور ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ اقتصادی راہداری تعمیرہونے سے چین اوربھارت کے درمیان اس راہداری سے تجارت ہوسکتی ہے۔

پاکستان اورچین کے درمیان سالانہ دوطرفہ تجارت کا حجم 12ارب ڈالر ہے جسے آئندہ3سال میں 15ارب ڈالرتک لے جانے کی کوشش کی جائے گی، وزیراعظم نوازشریف دوطرفہ تجارتی حجم کو 2 گناکرناچاہتے ہیں۔ اے ایف پی سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ سب سے بڑا منصوبہ اقتصادی راہداری ہے، مجھے امید ہے اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف چین اور پاکستان کیلیے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ اس سے پورا خطہ مستفید ہوگا، اگر اقتصادی راہداری تعمیر ہوجاتی ہے تو پھر چین اور بھارت کے درمیان تجارت بھی اس راہداری سے ہوسکتی ہے، اسی طرح اس راہداری سے چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں اور بھارت اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان تجارت بھی ممکن ہے۔



انھوں نے کہاکہ بعض منصوبوں پرحکومت کام کررہی ہے جبکہ زیادہ ترمنصوبوں پرچین کی کمپنیاں، صوبے، ریاستی ادارے اور حکام کام کر رہے ہیں، چینی انجینئر پن بجلی، تھرمل اور ایٹمی بجلی گھروں سمیت 15 سے زیادہ بجلی کے منصوبے تعمیرکررہے ہیں۔یادرہے پاکستان نے گزشتہ ہفتے چین کے تعاون سے ملک کے سب سے بڑے ایٹمی بجلی گھرکی تعمیر کا کام شروع کیا ہے۔ چین اور پاکستان کے سیاستدان دونوںملکوں کی گہری دوستی پرفخرکرتے ہیں اور اسی کی بنیاد پرتقریباً 10ہزار چینی انجینئراورکارکن پاکستان میں مختلف منصوبوں پر کام کررہے ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق چینی کمپنیاں توانائی، سڑکوں اورٹیکنالوجی کے شعبوںمیں100سے زیادہ بڑے منصوبوں پر کام کررہے ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ برسوں میں اندازاً 18ارب روپے ڈالرکی سرمایہ کاری آئے گی، تعمیراتی منصوبوں پر چینی انجینئروںکوسخت سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے ، بعض چینی ورکرز نے اے ایف پی کوبتایا وہ پاکستان میں خوش ہیں۔