ورلڈکپ 2011 کا فائنل فکسڈ نہیں تھا، آئی سی سی

عباس رضا  جمعـء 3 جولائ 2020
اچھا ہدف دینے کے باوجود سری لنکا کی ٹیم نے بری فیلڈنگ اور باؤلنگ کرکے میچ کا فیصلہ بھارت کے حق میں کردیا تھا، فوٹو : فائل

اچھا ہدف دینے کے باوجود سری لنکا کی ٹیم نے بری فیلڈنگ اور باؤلنگ کرکے میچ کا فیصلہ بھارت کے حق میں کردیا تھا، فوٹو : فائل

 دبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ورلڈکپ 2011 کے  بھارت اور سری لنکا کے درمیان ہونے والے فائنل کو کرپشن فری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے شواہد نہیں ملے جس کی بنیاد پر تحقیقات کا آغاز کیا جا سکے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سینئر جنرل منیجر الیکس مارشل نے کہا ہے کہ ورلڈکپ 2011 کے فائنل میں سری لنکا کے کھلاڑیوں کے میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کا معاملہ سامنے آیا تھا لیکن تاحال کوئی ایسے شواہد نہیں ملے جن کی بنیاد پر تحقیقات کا آغاز کیا جا سکے۔ اس لیے بھارت اور سری لنکا کے مابین فائنل میچ پر شکوک کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔

جنرل منیجر الیکس مارشل نے مزید کہا کہ  آئی سی سی کرکٹ میں کرپشن کو بڑی سنجیدگی سے لیتا ہے، یہ ناقابل برداشت ہے۔ اگر کسی کے پاس ورلڈ کپ 2011 کے فائنل یا کسی بھی دوسرے میچ میں کرپشن کے شواہد ہوں تو ضرور فراہم کرے، سخت ایکشن لیا جائے گا۔ سری لنکن بورڈ نے بھی اس حوالے سے کوئی تحریری درخواست یا شواہد پیش نہیں کیے۔

واضح رہے کہ 2011 میں سری لنکا کے وزیر کھیل کے منصب پر فائز رہنے والے مہندا نندا التھ گماگے نے ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں فکسنگ کے الزامات عائد کیے تھے جس پر ٹیم کے کپتان کمار سنگاکارا، چیف سلیکٹر اروندا ڈی سلوا اور اوپننگ بلے باز اوپل تھرنگا سری لنکن بورڈ کی تفتیشی کمیٹی کے سامنے پیش بھی ہوئے تھے، بورڈ نے شواہد نہ ہونے پر تفتیش ختم کردی تھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔