جعلی ڈگری کی تصدیق پر ایچ ای سی کو ختم کرنیکی کوشش کی گئی مقررین

اعلیٰ تعلیم کےفنڈمیں اضافہ مثبت حکومتی عمل ہے،ایچ ای سی کو وفاق کی سطح پرکام کرناچاہیے، ڈاکٹر عطاالرحمن ودیگر


Staff Reporter December 10, 2013
پاکستان کے مسائل کا حل فروغ تعلیم سے مشروط ہے،جامعہ کراچی آئی بی سی سی ایس میں منعقدہ 14ویں ایشیائی سمپوزیم کا افتتاح فوٹو: فائل

جامعہ کراچی کے بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) کے تحت نیچرل پروڈکٹ کیمسٹری، ادویاتی پودے و دیگر اقسام کے موضوع پر منعقدہ 14ویں ایشیائی سمپوزیم کی تقریب سے مقررین نے خطاب میں کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کو وفاق کی سطح پر ہی کام کرنا چاہیے ۔

کچھ سیاستدانوں نے اپنی جعلی ڈگریوں کی تصدیق اور جعلی ڈگریاں بچانے کے لیے تعلیمی کمیشن کو ختم کرنے کی کوشش کی حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے فنڈ میں اضافہ کیا ہے جو مثبت عمل ہے گزشتہ 5 برسوں میں اعلیٰ تعلیم پر قدغن لگایا گیا جس کی وجہ سے سرکاری جامعات کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا پاکستان کے تمام مسائل کا حل فروغِ تعلیم سے مشروط ہے،اعلیٰ تعلیمی کمیشن پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر مختار احمد نے سمپوزیم کا افتتاح کیا تقریب سے ڈاکٹر عطا الرحمن،ڈاکٹر غزالہ ایم رضوانہ، ڈاکٹر اقبال چوہدری ، ڈاکٹر سید عابد اظہر، عزیز لطیف جمال، نادرہ پنجوانی، ڈاکٹر مدثر اسرار، ڈاکٹر بیری نالر اور ڈاکٹر سید غلام مشرف نے خطاب کیا، ڈاکٹر مختار احمد نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ پاکستان کو انتہائی سنگین حالات کا سامنا ہے جبکہ ان مسائل کا واحد حل فروغِ تعلیم ہے، ملک میں سرکاری و غیر سرکاری جامعات میں اضافہ ہوا ہے جس کی تعداد 153 ہے ڈاکٹر عطا الرحمن نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں انقلاب برپا کیا ہے۔



ڈاکٹر عطا الرحمن نے کہا کہ تعلیم میں ترقی سے ہی ملک میں معاشی و معاشرتی ترقی ممکن ہے جبکہ گزشتہ 5 برسوں میں اعلیٰ تعلیم پر قدغن لگائی گئی جس سے جامعات کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑاہے، انھوں نے گفتگو میں کہا کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کو وفاق کی سطح پر ہی کام کرنا چاہیے انھوں نے کہا کہ کچھ سیاستدانوں نے اپنی جعلی ڈگریاں بچانے کے لیے تعلیمی کمیشن کو ختم کرنے کی کوشش کی،دنیا میں معاشی و معاشرتی ترقی کا واحد ذریعہ علم ہے،ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ آئی سی سی بی ایس اس خطے کا بہترین وسیع ادارہ بن چکا ہے انھوں نے کہا کہ اس بین الاقوامی سمپوزیم کے انعقاد کا مقصد متعلقہ شعبے میں دنیا بھر سے ماہرین کو نہ صرف یکجا کرنا ہے بلکہ ان کے تجربات و معلومات سے استفادہ کرنا ہے سمپوزیم سے سائنسدانوں کے درمیان مضبوط تحقیقی روابط استوار ہوں گے۔