تمباکونوشی موت کی سرگوشی

ڈاکٹر آصف چنٹر  جمعرات 23 جولائ 2020
 کینسر، امراض قلب سمیت متعدد بیماریوں کی جڑ تمباکو میں7ہزار کیمیکلز پائے جاتے ہیں

کینسر، امراض قلب سمیت متعدد بیماریوں کی جڑ تمباکو میں7ہزار کیمیکلز پائے جاتے ہیں

تمباکو نوشی اس وقت ایک عالمی مسئلہ بنا ہوا ہے، جس سے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ ایک سگریٹ میں تقریباً 7 ہزارکیمیکل ہوتے ہیں، جن میں 250 ایسے ہیں جو کہ انتہائی مضر صحت ہیں جن میں کاربن مونو آکسائیڈ(CO) ، امونیا(NH3) اور ہائیڈوجن سائنائیڈ(HCN) شامل ہیں اور ان مضر صحت کیمیکل میں سے  59 ایسے ہیں جس کو جدید دنیا نے ثابت کیا ہے کہ یہ کیمیکل کینسر کا باعث ہیں۔ مثال کے طور پر آرسینک(Arsenic)، بینزین(Benzene) ،کیڈمیم(Cadmium) اور ملٹی ہائڈ، ونائل کلورائیڈ(Vinyl Chloride) وغیرہ۔ اس وقت عالمی اعدادوشمار کے مطابق پوری دنیا میں قبل از وقت موت کی بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے۔ یہ بات بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں شرح اموات سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں 3  گنا زیادہ پائی گئی ہیں۔

تمباکو نوشی جسم کے تمام اعضاء اور نظام کو متاثر کرتی ہے، اس وقت سگریٹ نوشی پھیپھڑوں، خوراک کی نالی، منہ اور گلا، گردے،مثانہ،جگر ،لبلبہ،معدہ،بڑی آنت کے ساتھ ساتھ خون کے کینسر کی بڑی وجہ ہے۔ یہ بری عادت بلڈپریشر، دل کے امراض، فالج،خون کی نالیوں کا پھٹنا ،سانس کی بیماریاں، شوگر، ہڈیوں کا کمزور ہونا، جوڑوں کے درد کامرض، آنکھ میں موتیا اترنا جیسے امراض کا باعث بن رہی ہے۔ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی جسم کے مدافعتی نظام کو کمزور کرتی ہے۔ سگریٹ نوشی خواتین میں جہاں صحت کو متاثر کرتی ہیں وہاں حمل نہ ٹھہرنا، بچے کا ضائع ہونا اور حمل کا رحم سے باہر ٹھہر جانا وغیرہ جیسی بڑی پیچیدگیوںکا سبب بھی بنتی ہے۔

اس کے علاوہ بچوں کا وقت سے پہلے پیدا ہونا، کم وزن کا ہونا، پیدائشی نقائص مثلاً ہونٹ و تالو کا کٹے ہونا تمباکو نوشی کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد جہاں اپنے لیے پیچیدگیاں پیدا کر رہے ہیں وہاں ارد گرد پائے جانے والے افراد کے لیے بھی خطرے سے کم نہیں ہیں۔ وہ افراد جو سگریٹ کے دھواں والے ماحول میں رہتے ہیں یا کام کرتے ہیںسگریٹ کا دھواں ان کو بھی متاثرکرتا ہے۔ اس لئے ان کو پیسف سموکر(Passive Smoker) یا سیکنڈہینڈ (Secondhand Smoker) کہا جاتا ہے اوراور یہ افراد بھی تمام مندر جہ بالا بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں البتہ ان کا تناسب کم ہوتا ہے۔

تمباکو نوشی ایک نشہ ہے اور نیکوٹین وہ عنصر ہے، جو سگریٹ بنانے والی کمپنیاںدانستہ طور پر زیادہ مقدار میں ڈالتی ہیں تاکہ ان کی پروڈکٹ(Product) سے زیادہ معاشی فائدہ حاصل ہو۔ نیکو ٹین منہ کی اندرونی جھلیوں اور پھیپھڑوں کے ذریعے خون میں جذب ہو جاتی ہے اور سیکنڈوں میں دماغ تک جا پہنچتی ہے۔ قارئین کو یہ بات بڑی توجہ سے پڑھنی چاہیے کہ درا صل نیکو ٹین ایک کیٹر ے مار دوا ہے ۔یہ انسانی دماغ کو عارضی طور پر متحرک کرتی ہے اور اس کے مسلسل استعمال سے ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہر قسم کا تمباکو صحت کے لیے مضر ہے اور تمباکو کی کوئی بھی پراڈکٹ (Product)صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہے مثلاً سگار، پائپ، حقہ، بیڑی وغیرہ یہ تمام صحت کے لیے مضر ہیں۔

اس طرح تمباکو کو کھانا ،چبانا اور سونگھنا اتنا ہی نقصان دہ ہے۔ سگریٹ نوشی چاہے پرانی عادت ہو یا نئی عادت، اس کو چھوڑنے سے فوراچھے نتائج ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔مثال کے طور پر بلڈ پریشر اور دل کی رفتار جوسگریٹ نوشی کی وجہ سے بڑھ چکے ہوتے ہیں فوراً نارمل ریٹ پر آجاتے ہیں۔چند ہی گھنٹوں کے اندر کاربن مونو آکسائیڈ کا لیول کم ہونا شروع ہو جاتاہے۔ کاربن مونو آکسائیڈ جسم میں آکسیجن لے کر جانے کی صلاحیت کو کم کرتی ہے۔ چند ہی ہفتوں میں جسم میں خون کی گردش نارمل ہو جاتی ہے،بلغم میں کمی آجاتی ہے ۔

کھانسی اور سانس میں آوازیں نکلنا کم ہو جاتی ہیں۔ کئی مہینوں کے بعد پھیپھڑوں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آتی ہے اور آنے والے سالوں میں دل کے امراض اوردیگر بیماریوں، کینسر،فالج کے خدشات کم ہو جاتے ہیں۔ ایک جدید تحقیق کے مطابق سگریٹ نوشی والے افراد جن میں کینسر کی تشخیص ہو چکی ہوتی ہے اگر وہ سگریٹ نوشی ترک کر دیتے ہیں تو ان کی شرح اموات میں 30 فیصد سے 40 فیصد تک کمی آسکتی ہے۔اسی طرح سگریٹ نوشی سے متاثرکینسر کے وہ مر یض جو سرجری یا کیمیوتھراپی کے عمل سے گزر رہے ہوتے ہیں سگریٹ نوشی ترک کرنے سے ان کی صحت میں نمایاں حد تک بہتری ہو سکتی ہے کیوں کہ اسطرح دفاعی نظام کو تقویت ملتی ہے۔

تمباکو اور سگریٹ نوشی کی تاریخ بہت پرانی ہے اور اس کا ذکر 3 ہزار سے5 ہزار سال قبل مسیح کی تاریخ میں ملتا ہے۔ 1612ء میں John Roley وہ پہلا شخص تھا جس نے تمباکو کو بطور فصل کاشت کیا اس وقت تمباکو کو گولڈن ویٹ(Golden Wheat) کا نام دیا گیا۔ جب کوئی سگریٹ پینے والا سگریٹ چھوڑنا چاہتا ہے تونیکوٹین کے نشے کی وجہ سے سگریٹ نوشی ترک نہیں کر سکتا ۔ سگریٹ چھوڑنا اگرچہ ایک مشکل کام ہے لیکن ناممکن نہیں۔ جب کوئی سگریٹ پینے والا سگریٹ کی عادت کو چھوڑتا ہے تو اس میں چند علامات پیدا ہوتی ہیںجن میں تھکاوٹ، جسم کا خشک ہونا، بے چینی، مایوسی، قبض اور سگریٹ کی شدید خواہش کا پیدا ہونا شامل ہے۔

ایسے افراد جو کافی عرصہ سے سگریٹ نوشی کر رہے ہوتے ہیں یا دن میں زیادہ سگریٹ پیتے ہیں ان میں یہ علامات زیادہ شدت کے ساتھ نمودار ہوتی ہیں۔ سگریٹ چھوڑنے کے لیے ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے جس کوکو لڈ ٹرکی (Cold Turkey) کہتے ہیں۔ کولڈ ٹرکی(Cold Turkey) سے مراد ایک ایسی اپروچ ہے جس میں بغیر کسی ادویات کے سگریٹ نوشی ترک کی جاتی ہے۔۔اس کے علاوہ سگریٹ چھوڑنے کے لیے مختلف قسم کے پراڈکٹ مارکیٹ میں دستیاب ہیں جن میں نیکو ٹین پیچ(Nicotine Patch)، نیکوٹین گم (Nicotine Gum)، نیکوٹین انہیلر(Nicotine Inhaler) اور ناک میں چھڑکنے والے سپرے(Nasal Spray) شامل ہیں۔ یہ تمام پرڈکٹ جسم کو تھوڑی مقدار میں نیکوٹین مہیا کرتے ہیںاور آہستہ آہستہ جسم نیکو ٹین کے اثرات سے با ہر نکل آتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت دنیا میں تمباکو نوشی کے افراد کی تعداد ڈیڑھ ارب کے قریب ہے۔ ان میں ایک کروڑ افراد ترقی پذیر ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں سگریٹ نوشی کرنے والے افرادکی تعداد میں کمی آرہی ہے۔ سگریٹ نوشی کو ترک کرنے کے لیے اس وقت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پروگرام کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ جن میں سموک فری ٹیسٹنگ پروگرام(Smoke Free Texting Programme) اور سموک فری سوشل میڈیا (Smoke Free Social Media)کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سموک فری اپلیکیشن (Smoke Free Apps) بھی دستیاب ہیں جس کو استعمال کرکے تمباکو نوشی کو چھوڑنے میں مدد مل سکتی ہے۔ سگریٹ نوشی معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ ہے جو صرف صحت کو متاثر نہیں کر رہا بلکہ معاشیات ، انسانی ترقی اور ماحول کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔اس موذی لت سے آنے والی نسلوں کو بچانے کے لیے معاشرے میں شعور اور آگاہی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔