ووٹوں کی تصدیق کافیصلہ سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا

پی ایس 29 اور این اے 215 میں ووٹوں کی تصدیق کے فیصلے پرعملدرآمد روکنے کی استدعا


Staff Reporter December 12, 2013
پیپلزپارٹی کے امیدوارسید قائم علی شاہ نے عام انتخابات میں پی ایس29-خیرپور سے کامیابی حاصل کی ہے، فوٹو: ایکسپریس/فائل

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ووٹوں کی تصدیق کرانے کے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔

فاروق ایچ نائیک کے توسط سے دائر درخواست میں استدعاکی گئی ہے کہ الیکشن ٹریبونل کی جانب سے مذکورہ حلقوں کے ووٹوںکی نادراسے تصدیق کرانے کے فیصلے پر عملدرآمدروکاجائے اورالیکشن ٹریبونل کے فیصلے کوغیر قانونی اور غیرآئینی قرار دیاجائے،پی ایس 29خیرپور سے کامیاب قراردیے گئے رکن سندھ اسمبلی قائم علی شاہ اوراین اے 215خیرپور سے نواب وسان نے درخواستوں میں موقف اختیار کیاہے کہ 11 مئی 2013 کو منعقد ہونیوالے انتخابات میں مذکورہ حلقوں میں پرامن اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہوا،اس حوالے سے کوئی شکایت سامنے نہیں آئی اس لیے ووٹوں کی نادراسے تصدیق کا کوئی جواز نہیں۔



واضح رہے کہ اس سے قبل وزیر اعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے الیکشن ٹریبونل سکھرکے سربراہ ظہیرالدین ایس لغاری پرتعصب کاالزام عائد کرتے ہوئے اپنی کامیابی کیخلاف دائراپیل کسی اورٹریبونل میں منتقل کرنے کی استدعا کی تھی۔درخواست میں کہاگیا تھا کہ پیپلزپارٹی کے امیدوارسید قائم علی شاہ نے عام انتخابات میں پی ایس29-خیرپور سے کامیابی حاصل کی ہے ،ان کی کامیابی کے خلاف مسلم لیگ(ن)کے امیدوار سید غوث علی شاہ نے الیکشن ٹریبونل میں درخواست دائر کی ہے ،الیکشن ٹریبونل کے سربراہ ظہیرالدین ایس لغاری جلد بازی میں درخواست کی سماعت کررہے ہیں اوران کے رویے سے لگتاہے کہ وہ جانبدارہیں وہ مسلم لیگ(فنکشنل) کے حامی اور پیر پگارا کے مریدہیں، مسلم لیگ(ف)اور مسلم لیگ (ن) اتحادی جماعتیں ہیں اس لیے ظہیرالدین ایس لغاری سے انصاف کی توقع نہیں۔جس پرسید قائم علی شاہ کی کامیابی کے خلاف دائر کردہ انتخابی عذرداری جسٹس(ر)ظفراحمد خان شیروانی پر مشتمل ٹریبونل میں منتقل کردی گئی تھی۔