نماز رب کی رضا کا ذریعہ

’’اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور اس پر (خود بھی) قائم رہو۔‘‘


Erum Nabi September 06, 2012
ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔‘‘ (سورۂ بقرہ) فوٹو فائل

KARACHI: نماز اسلام کا اہم ترین رکن اور اشرف ترین فرض ہے۔ اﷲ کی ذات واحد کو تسلیم کرنے کے بعد سب سے پہلا حکم اقامت صلوٰۃ کا دیا گیا ہے۔

جس سے نماز کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ توحید و رسالت کے اقرار کے بعد نماز اسلام کا سب سے اہم رکن ہے جو اﷲ تبارک و تعالیٰ کا حق اور اہل ایمان کا فرض ہے۔ اس میں اﷲ کی عبادت کے مختلف پہلو شامل ہیں۔ مثال کے طور پر اس میں دست بستہ قیام ہے، رکوع و سجود ہیں، دعا و مناجات ہے، اﷲ کی عظمت و جلالت کے ساتھ ساتھ اپنی عاجزی و بے کسی کا اظہار ہے۔

عبادت کی یہ ساری صورتیں اور قسمیں صرف اﷲ کے لیے خاص ہیں۔ نماز وہ فرض عبادت ہے جس کی کسی حال میں بھی معافی یا چھوٹ نہیں ہے۔ اگر مجبوری کے باعث کھڑے ہوکر نہیں پڑھ سکتے تو بیٹھ کر پڑھ لیں، بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتے تو لیٹ کر پڑھ لیں، اور اگر لیٹ کر نہیں پڑھ سکتے تو اشاروں میں پڑھ لیں، لیکن اس کی معافی نہیں ہے۔ اگر کسی مجبوری کے باعث وقت پر نہیں پڑھ سکے تو لازمی طور پر قضا پڑھنی ہے۔

قرآن حکیم میں بھی ایمان باﷲ اور ایمان بالآخرت کے بعد جن اعمال کا سب سے زیادہ حکم دیا گیا ہے، وہ نماز، زکوٰۃ اور خشیت الٰہی ہیں۔ قرآن حکیم کی 86 آیات میں نماز کا ذکر آیا ہے، جن میں سے زیادہ تر میں نماز قائم کرنے اور پابندی سے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نماز کو پابندی سے قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے اپنے وقت پر اور پورے ارکان اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کیا جائے۔

خشوع و خضوع سے مراد دل اور دماغ کی یک سوئی اور انہماک ہے۔ قلبی یکسوئی یہ ہے کہ نماز کی حالت میں فاسد خیالات اور وسوسوں کے ہجوم سے دل کو محفوظ رکھ جائے اور اﷲ کی عظمت و جلالت کا نقش اپنے دل پر بٹھانے کی پوری کوشش کی جائے۔ اعضا و بدن کی یکسوئی یہ ہے کہ ادھر ادھر نہ دیکھے۔

کھیل کود نہ کرے، بلا ضرورت ناک، کان اور گردن وغیرہ نہ کھجائے اور خواہ مخواہ بالوں اور کپڑوں کو سنوارنے میں نہ لگا رہے، بلکہ پورے ادب و احترام اور خوف و خشیت کے ساتھ اس کی ادائیگی کرے، اس پر عاجزی کی ایسی کیفیت طاری ہو جیسے عام طور پر بادشاہ یا کسی بڑے شخص کے سامنے ہوتی ہے۔

نماز کے دوران ذہن و دل کو فضول خیالات اور وسوسوں سے بچانے کا ایک آسان طریقہ تو یہ ہے کہ پوری نماز کے دوران انسان اپنے آپ پر ادب و احترام کی کیفیت طاری رکھے اور دل میں یہ سوچتے ہوئے نماز کو اطمینان اور آہستہ آہستہ اس کیفیت کے ساتھ پڑھے کہ ہم اﷲ تبارک و تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہیں اور یہ کہ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:''اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔'' (سورۂ بقرہ)
نماز اور صبر کوئی مرئی چیز تو ہے نہیں کہ انسان ان کا سہارا پکڑ کر ان سے مدد حاصل کرلے۔ یہ تو غیر مرئی چیزیں ہیں ، پھر ان غیر مرئی چیزوں کا سہارا پکڑ کر مدد کیسے حاصل کی جاسکتی ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ نماز اور صبر کے ذریعے انسان کا اﷲ کے ساتھ خصوصی تعلق قائم ہوجاتا ہے جس کے بعد انسان کو اﷲ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوتی رہتی ہے جو زندگی کے ہر موڑ پر اس کے عزم و ثبات کا باعث اور ہدایت و راہ نمائی کا ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔

قرآن حکیم میں مومن کامل اور اہل توحید کی جو نشانیاں بتائی گئی ہیں، ان کے مطابق وہ نماز میں کوتاہی نہیں کرتے، ہر نماز اپنے وقت پر نہایت پابندی اور التزام کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ کوئی ضروری کام یا مصروفیت انہیں نماز کی بروقت ادائیگی سے نہیں روکتی اور دنیا کا کوئی فائدہ یا کوئی بھی موسم انہیں نماز سے غافل نہیں کرتا۔

''تو ایسے نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نماز سے غافل ہیں، جو ریاکاری کرتے ہیں۔'' (سورۂ ماعون)
اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن پر نماز واجب ہے، مگر یا تو پڑھتے ہی نہیں یا پہلے پابندی سے پڑھتے رہے پھر سست ہوگئے یا نماز کو اس کے اپنے مسنون وقت میں نہیں پڑھتے، جب جی چاہتا ہے پڑھ لیتے ہیں یا تاخیر سے پڑھنے کو معمول بنالیتے ہیں یا خشوع خضوع کے ساتھ نہیں پڑھتے، کبھی پانچ وقت کی پڑھ لی، کبھی دو وقت کی اور کبھی تین وقت کی اور کبھی تو پورا دن نماز پڑھی ہی نہیں۔

یہ سب مفہوم اس میں آجاتے ہیں، اس لیے نماز کی مذکورہ کوتاہیوں سے بچنا چاہیے۔ نماز میں ان کوتاہیوں کے مرتکب وہی ہوتے ہیں جو آخرت کی جزا اور حساب کتاب پر یقین نہیں رکھتے، اسی لیے منافقین کی ایک خرابی ریاکاری بھی بیان کی گئی ہے۔ ریاکاری سے مراد یہ ہے کہ جب لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں تو نماز پڑھتے ہیں، صرف یہ سوچ کر کہ اگر ہم نماز نہیں پڑھیں گے تو یہ لوگ ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے، اور جب لوگ ساتھ نہیں ہوتے تو نہیں پڑھتے۔

یہ صرف دکھاوے اور ریاکاری کی نماز ہوتی ہے جس کی سزا بہت سخت ہوگی۔ بہرحال نماز اپنے مقررہ وقت پر فرض ہے اور اس کی ادائیگی بہرصورت کرنی ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:''پھر جب تم نماز ادا کر چکو تو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے اﷲ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہو اور جب اطمینان پائو تو نماز قائم کرو! یقیناً نماز مومنوں پر مقرر وقتوں پر فرض ہے۔'' (سورۂ نساء)
اس آیت مبارکہ میں اﷲ تبارک و تعالیٰ نے نماز کو نہ صرف مقررہ وقتوں میں ادا کرنے کا حکم دیا ہے، بلکہ مومن کی نشانی یہ بھی بتائی ہے کہ وہ وقت مقررہ پر باقاعدگی سے نماز پڑھتا ہے۔

رسول کریمﷺ کا ارشاد پاک ہے:''جب تم دیکھو کہ ایک آدمی مسجد میں پابندی سے آتا ہے تو تم اس کے ایمان کی گواہی دو۔'' (ترمذی)
جس طرح نماز اﷲ تبارک و تعالیٰ کے حقوق میں سے ایک ہے، اسی طرح نماز کے بھی ہمارے اوپر حقوق ہیں۔ نماز کے حقوق یہ ہیں کہ ہم اسے خشوع و خضوع سے ادا کریں، جس ذات بابرکت کے لیے اسے ادا کررہے ہیں، اسے اپنے دل و دماغ سے محو نہ ہونے دیں۔ نماز کے تمام ارکان پوری طرح ادا کریں۔

ایسا نہ کریں کہ رکوع کے بعد سیدھے کھڑے ہونے سے پہلے ہی سجدے میں چلے جائیں یا پہلے سجدے کے بعد پوری طرح بیٹھنے سے پہلے ہی دوسرے سجدے میں چلے جائیں، غرض ہر رکن نماز کو انصاف کے ساتھ ادا کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے اہل خانہ کو بھی نماز کی پابندی کرنے کی ہدایت کریں۔

ارشاد ہوتا ہے:''اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور اس پر (خود بھی) قائم رہو۔ ہم تم سے روزی کے خواست گار نہیں، بلکہ تمہیں ہم روزی دیتے ہیں اور نیک انجام (اہل) تقویٰ کا ہے۔'' (سورۂ طٰہ)
مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود بھی نماز کی پابندی کرے اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز کی تاکید کرتا رہے۔

اگر ہر مسلمان اس حکم خداوندی کے مطابق اپنی ذمے داری نبھائے تو مجموعی طور پر پورا معاشرہ ہی نماز کا پابند ہوجائے گا جس کا نتیجہ ایک بہتر معاشرے کی صورت میں نمودار ہوگا، کیوں کہ نماز برائیوں اور بے حیائی سے روکتی ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو اوائل عمری سے ہی نماز کی تاکید کرتے رہیں تو نہ صرف ان میں نماز پڑھنے کی پختہ عادت پیدا ہوگی۔

بلکہ ساری زندگی نماز پڑھنا آسان اور لذت انگیز محسوس ہوگا، نیز اس کا اجر و ثواب ہمیں بھی ملتا رہے گا، کیوں کہ اﷲ تعالیٰ کسی نیک کام کا اجر کبھی بھی ضائع نہیں کرتا۔ یہ اﷲ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور اس ذات بابرکت کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے۔