بلدیہ عظمیٰ اور الٰہ دین پارک انتظامیہ کو نوٹس جاری

الٰہ دین پارک کی اراضی کے کمرشل استعمال کو روکا جائے


Staff Reporter September 07, 2012
الٰہ دین پارک کی اراضی کو منافع کمانے اور کاروبار کے طورپر استعمال کیا جارہاہے جو کہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے الٰہ دین پارک کی اراضی کے کمرشل استعمال کے خلاف دائر درخواست پر بلدیہ عظمیٰ کراچی اور الہ دین پارک انتظامیہ کو 21ستمبرکیلیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔

مولوی اقبال حیدر ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر درخواست میں مقصوداحمد نے موقف اختیار کیا ہے کہ الہ دین پارک رفاعی پلاٹ پر قائم ہے،52ایکڑاراضی 2006میں 50روپے فی مربع گز کے عوض حاصل کی گئی تھی،اراضی کے بڑے حصے پر شادی ہال، چلب اور جیمخانہ قائم کردیا گیا ہے جس کی رکنیت کی فیس تین لاکھ روپے سے زائد ہے،

اراضی کو منافع کمانے اور کاروبار کے طورپر استعمال کیا جارہاہے جو کہ قوانین کی خلاف ورزی ہے، سپریم کورٹ بھی اپنے ایک فیصلے میں قراردے چکی ہے کہ رفاہی پلاٹس کا کمرشل استعمال نہیں کیا جاسکتا، الٰہ دین پارک کی اراضی کے کمرشل استعمال کو روکا جائے۔