حلقہ بندیوں کاعمل شیڈول کے اجراسے متاثرنہیں ہوگاسندھ ہائیکورٹ

صورتحال بدل جائے گی،مریدعلی ایڈووکیٹ،حلقہ بندیاں احکام کے مطابق ہونگی،2رکنی بینچ


Staff Reporter December 18, 2013
نئے آرڈیننس کی روشنی میں ترمیمی درخواست دائرکریں،متحدہ کے وکیل فروغ نسیم کوہدایت فوٹو ایکسپریس/فائل

سندھ ہائیکورٹ نے کراچی، بینظیرآباد،قمبرشہدادکوٹ،نوشہروفیروزاوردیگراضلاع کی حد بندیوں اورسندھ لوکل گورنمنٹ(ترمیمی) ایکٹ 2013 کیخلاف دائرکردہ متحدہ قومی موومنٹ اورشہریوںکی جانب سے دائردرخواستوں کی سماعت19دسمبرتک ملتوی کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ انتخابی شیڈول جاری ہونے سے ان درخواستوں کی سماعت پراثرنہیں پڑے گا۔

بلکہ حلقہ بندیاں ان درخواستوں پرعدالت کے فیصلے کے مطابق ہونگی،جسٹس محمدعلی مظہرکی سربراہی میں2رکنی بینچ نے منگل کومختلف درخواستوں کی سماعت کی۔اس موقع پر نوشہروفیروزکی حدبندی کیخلاف درخواست دائرکرنے والے مریدعلی شاہ ایڈووکیٹ نے نکتہ اٹھایاکہ ممکنہ طور پر18دسمبر کوالیکشن کمیشن انتخابی شیڈول جاری کردے گاجس کے بعدصورتحال بدل جائے گی۔عدالت نے ایم کیو ایم کے وکیل بیرسٹرفروغ نسیم کوہدایت کی کہ نئے آرڈیننس کی روشنی میں ترمیمی درخواست دائر کریں۔رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے دائر درخواست میں ملیر اور شرقی اضلاع کی یونین کمیٹیوں میں ردوبدل کو غیرقانونی قراردینے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں چیف سیکریٹری،الیکشن کمیشن،کمشنرکراچی،ملیر،غربی،شرقی،وسطی اور جنوبی کے ڈپٹی کمشنرز اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے ،وقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت حلقہ بندیاں آخری مردم شماری کے مطابق کی جائیں گی،کراچی میں 1998میں آخری مردم شماری ہوئی جس کے مطابق کراچی کی آبادی 93لاکھ93ہزارتصور کی جاتی ہے۔پرانے بلدیاتی نظام کے تحت ایک یونین کونسل 10سے 15ہزار نفوس کی بنیاد پر تشکیل دی گئی تھی جبکہ نئے نظام کے تحت 40سے 50ہزار نفوس پر مشتمل یونین کمیٹیاں قائم کردی گئی ہیں۔

 photo 3_zpsb565068d.jpg

اس نظام میں کراچی میں ڈسٹرکٹ کونسل بھی ختم کردی گئی ہے اور اس طرح کراچی میں صرف یونین کمیٹیاں ہی کام کریں گی۔درخواست میں مزید کہاگیاکہ مذکورہ نوٹیفکیشن کے ذریعے ضلع ملیرمیں38یونین کمیٹیاں قائم کردی گئی ہیں،شاہ مریداورمائی گاڑھی کوغربی سے نکال کرملیر میں شامل کردیا گیا جبکہ گابوپٹ کوغربی سے نکال کرضلع جنوبی میں شامل کیا گیاہے،پانچ یونین کمیٹیوں جان محمدبروہی گوٹھ،ایوب گوٹھ،عباس ٹائون،گلزار ہجری اور صفورا گوٹھ کو ضلع ملیر سے نکال کر ضلع شرقی میں شامل کردیا گیا ہے،اس طرح ملیرکیلیے41یونین کمیٹیاں اور جنوبی کیلیے17یونین کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں اوریونین کمیٹیوں میں آبادی کاتناسب بھی یکساں نہیں۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ مذکورہ نوٹیفکیشن کوغیرقانونی اور کاالعدم قراردیاجائے،1998کی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیاں کی جائیں اوراسی لحاظ سے یونین کمیٹیاں بھی تشکیل دی جائیں۔مرید علی شاہ کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ سندھ اسمبلی میں نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ2013منظور ہوچکاہے،اس حوالے سے حکومت نے بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں نئی مجوزہ حلقہ بندیوںپر 26ستمبر2013کو جاری نوٹیفیکیشن کے تحت شہریوں سے اعتراضات طلب کیے تھے،ایک اور نوٹیفکیشن کے ذریعے ڈپٹی کمشنرز کو لوکل کونسلز کیلیے حلقہ بندی افسر مقرر کیا گیاتھا اورانھیں پابند کیا گیا تھا کہ مقامی آبادی کے لحاظ سے حلقہ بندیوںکاتعین کریں۔\