نوازشریف صرف کرپشن بم اور منی لانڈرنگ بم بنا سکتے ہیں فیاض الحسن

نوازشریف اپنی منفی سیاست سے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں، صوبائی وزیراطلاعات


ویب ڈیسک October 03, 2020
نواز شریف کے ساتھ اے پی سی کے ذریعے سیاست ہوئی، صوبائی وزیر۔ فوٹو: فائل

وزیراطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ نوازشریف ایٹمی دھماکوں کے حق میں نہیں تھے وہ صرف کرپشن بم، منی لانڈرنگ بم بنا سکتے ہیں۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیراطلاعات فیاض چوہان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی اے پی سی کا مقصد کرپشن کیسز کو بند کرنے کیلئے دباؤ ڈالنا ہے، ساری اپوزیشن ن اور ش لیگ کے ساتھ سیاست کررہی ہے، نواز شریف کے ساتھ اے پی سی کے ذریعے سیاست ہوئی، اس میں آصف زرداری نے 2 یا 3 منٹ اپنی تقریر میں احتیاط کی ، مولانا فضل الرحمان نے بھی مناسب بات کی، جب نوازشریف کی باری آئی تو انہوں نے ملکی رازوں کو افشاں کیا، نوازشریف اپنی منفی سیاست سے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں، ان کی تقریر کا جو ردعمل آیا اب بھگت رہے ہیں۔

فیاض الحسن نے کہا کہ نوازشریف نے اپنے حلف کے ساتھ خیانت کی، انہوں نے کروزمیزائل کی بات کرکے بڑی غلطی کی، کروز میزائل پر ریورس انجینئرنگ کی بات پر سائنسدان ثمر مبارک مند جواب دے چکے ہیں، 80 کی دہائی میں پاکستان ایٹم بم بنا چکا تھا، ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایٹم بم کے خالق ہیں، نوازشریف ایٹمی دھماکے کرنے کے حق میں نہیں تھے، آپ صرف کرپشن بم اور منی لانڈرنگ بم بنا سکتے ہیں۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ن لیگ اب میم لیگ میں تبدیل ہوچکی ہے، شہبازشریف نے اپنی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست خود واپس لی، وہ ن اور م لیگ کو سمجھا سمجھا کر تھک گئے تھے، اورچاہتے تھے کہ کوئی بیچ کا راہ نکل آئے، م لیگ نے جتنا کھیلا ن لیگ کی سیاست خراب ہوگی، شہبازشریف نے کہا آپ نے جو کرنا ہے کرو میں جارہا ہوں۔

فیاض الحسن نے کہا کہ نوازشریف کو اداروں نے لندن بھیجا ہے تو علاج کرا کر واپس آ جاتے، وہ لندن گھوم کر فون کرکے کہتے ہیں تحریک چلاؤ، لیکن نون لیگ کے ورکرز اور منتخب نمائندوں کو دو سالوں میں ان کا پتا چل گیا ہے، مارچ میں سینیٹ الیکشن پی ٹی آئی بھاری اکثریت سے جیتے گی، اس وجہ سے ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھے ہوئے ہیں، نوازشریف صرف اپنی فرسٹریشن نکال رہے ہیں، سینیٹ انتخاب میں کامیابی کے بعد پی آٹی آئی تاریخی قانون سازی کرے گی۔

وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ 2013 انتخابات میں تاریخی دھاندلی ہوئی، جس میں ن لیگ سلیکٹ ہوئی تھی، آر ٹی ایس جہاں جہاں بیٹھا وہاں پی ٹی آئی امیدوار ہار گئے، 2013 کے انتخابات میں 413 درخواستیں دھاندلی کی تھیں، الیکشن کے بعد ہم نے 4 حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا، چاروں حلقے عدالتی حکم پر کھلے اور دھاندلی ثابت ہوئی۔