نان فائلرز کو کم ازکم 20 ہزار روپے جرمانہ کرنے کا فیصلہ

تاخیرکرنے پرجرمانہ بڑھتارہے گا،زیادہ سے زیادہ ٹیکس واجبات کا 50 فیصدعائد ہوگا


Irshad Ansari December 20, 2013
ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع نہ کرانے والوں کو ڈھائی ہزار روپے یومیہ الگ جرمانہ ہو گا، ایف بی آرذرائع۔ فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 16 دسمبر کی مقررہ مدت کے بعد انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے ٹیکس دہندگان پر کم ازکم 20 ہزار روپے جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع نہ کرانے پر ڈھائی ہزار روپے یومیہ کے حساب سے اضافی جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

ایف بی آر کے سینئر افسر نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ جن ٹیکس دہندگان کی طرف سے ایف بی آر کی مقررہ مدت کے دوران انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائے گئے فنانس ایکٹ کے تحت اب ان نان فائلرز پر کم ازکم 20ہزارروپے جرمانہ عائد کیا جائے گا اورٹیکس دہندگان اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے میں جتنی تاخیر کریں گے جرمانے کی رقم میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہوتا رہے گا اور بہت زیادہ تاخیر سے گوشوارے جمع کرانے والے ٹیکس دہندگان کو ان کے ذمے واجب الادا ٹیکس کی رقم کے 50 فیصد کے برابر جرمانہ عائد کیا جائیگا تاہم جن ٹیکس دہندگان کے ذمے کوئی ٹیکس واجبات نہیں ہوں گے ان پر کم ازکم 20ہزارروپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

 photo 6_zps3287e2bf.jpg

ذرائع نے بتایا کہ ایسے ٹیکس دہندگان جن کے لیے انکم ٹیکس گوشواروں کے ساتھ ویلتھ اسٹیٹمنٹس جمع کرانا بھی لازمی ہیں ان پر ویلتھ اسٹیٹمنٹ کا ڈھائی ہزار روپے یومیہ الگ سے جرمانہ عائد کیا جائے گا، ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع کرانے میں تاخیر پر زیادہ سے زیادہ 50ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ ایف بی آر افسر نے بتایا کہ پہلے مقررہ تاریخ کے بعد انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے پر جرمانے کی شرح 5 ہزار روپے تھی لیکن اب فنانس ایکٹ کے ذریعے اس جرمانے کی رقم کو بڑھادیا گیا ہے اور اب نان فائلرز پر کم ازکم 20ہزار روپے جرمانہ عائد ہوگا اور جتنی تاخیر کریں گے جرمانے کی رقم میں اتنا ہی اضافہ ہوتا جائے گا۔