ترمیمی بلدیاتی آرڈیننس کے خلاف متحدہ کا لیبر ڈویژن بھی سڑکوں پر آگیا

کراچی کے لوگ اپنے حقوق کسی صورت سلب نہیں ہونے دینگے، مظاہرین سے انچارج لیبرڈویژن کاظم رضا، جاوید نہال اور دیگر کا خطاب


Staff Reporter December 20, 2013
متحدہ قومی موومنٹ لیبرڈویژن کے انچارج کاظم رضا کراچی پریس کلب کے سامنے مظاہرین سے خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

متحدہ قومی موومنٹ لیبر ڈویژن کے زیر اہتمام سندھ حکومت کی جانب سے سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس اورمختلف اداروں میں مزدور دشمن پالیسیوں کیخلاف کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میںمختلف سرکاری ونیم سرکاری اداروں کے محنت کشوں، سی بی اے یونینوں اور مزدور تنظیموں کے عہدیداران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

احتجاجی مظاہرے سے ایم کیوایم لیبرڈویژن کے انچارج کاظم رضا، جوائنٹ انچارجز لیبرڈویژن صابرخان، زوارحسن اوریونائیٹڈلیبرفیڈریشن کے صدر جاویدنہال نے خطاب کیا اورسندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈینینس کوکراچی دشمن اورسیاہ قانون قراردیتے ہوئے اسے فی الفور واپس لینے کامطالبہ کیا۔ احتجاجی مظاہرے کے شرکا نے ہاتھوں میں ایم کیوایم کے پرچم،پلے کارڈزاور بینززاٹھارکھے تھے جن پر 'نامنظور نامنظور سندھ لوکل گورنمنٹ ...نامنظور،مالیاتی اداروں میں بے جا مداخلت بند کرو، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے مالی بجٹ پرڈاکا نامنظور، پورٹ قاسم اتھارٹی کے کنٹریکٹ ملازمین کوفوری بحال کی اجائے، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی اعلیٰ انتظامیہ کالسانی بنیاد پر ملازمین کے ساتھ متعصبانہ سلوک نامنظور، مزدوردشمن پالیسیاںبندکرو'' نعرے درج تھے۔

 photo 2_zpsf51e291c.jpg

مظاہرے سے خطاب میں انچارج لیبرڈویژن کاظم رضا نے کہاکہ سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس سیاہ قانون ہے جوجاگیردارانہ سوچ کی عکاسی ہے،کراچی کے لوگ آزادخیال اورپڑھے لکھے ہیںجواپنے حقوق کو کسی صورت سلب نہیںہونے دیں گے۔ انھوںنے کہا کہ ہم سازشی عناصرکوبتادینا چاہتے ہیںکہ قائدتحریک الطا ف حسین کامحنت کشوںسے خصوصی تعلق ہے جسے کبھی ختم نہیںکیاجاسکتا۔ لیبرڈویژن کے جوائنٹ انچارجز صابرخان اورزوارحسن نے کہاکہ کراچی اوراس کے اداروںپرجوشب خون مارجاراہاہے وہ ظلم کی انتہا ہے، اس سیاہ قانون کے تحت کراچی کے مالیاتی اداروںکوسندھ گورنمنٹ میں ضم کرنے کی گھنائونی سازش کی گئی ہے جس کے باعث ادارے مالی بحران کاشکارہیں اورملازمین تاحال تنخواہوںسے محروم ہیں۔ یونائٹیڈلیبرفیڈریشن کے صدرجاویدنہال نے کہاکہ سندھ اسمبلی اب اسمبلی نہیںرہی بلکہ یہ آرڈی نینس فیکٹری بن چکی ہے جہاں سے آئے دن نئے نئے سیاہ قانون عوام پرلاگوکیے جاتے ہیں۔

 photo Pic_zps1e27369a.jpg

اس موقع پر اجتماع میں یہ قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں جس میں مطالبہ کیا گیا کہ بلدیاتی ملازمین کے حقوق پر ڈاکا سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2013 کو فوری طورپر واپس لیا جائے، بلدیاتی اداروں خصوصاً KMC، KDAاور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے مالی اور اختیاری وسائل پر حکومت سندھ اپنا قبضہ ختم کرے، ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ کی سندھ حکومت میں منتقلی کے فیصلے کو فوری طورپر واپس لیا جائے، تمام اداروں میں پچھلے 5 سال سے خدمات انجام دینے والے غیر مستقل محنت کشوں کو مستقل کیا جائے، کسی بھی محنت کش کی کم از کم تنخواہ 20 ہزار روپے کی جائے،کسی بھی محنت کش کی حادثاتی موت کی صورت میں اس کے گھر کے ایک فرد کو اسی ادارے میں ملازمت دی جائے۔