شریف الدین پیر زادہ کا بیان قلمبند ہونے پر قانونی حلقوں میں ہلچل

غداری کیس میں ان کا بیان ان کیخلاف بھی جانے کا امکان ہے، حسان و حلیم صدیقی ایڈووکیٹ


Staff Reporter December 20, 2013

سابق آرمی چیف جنرل پرویزمشرف کے خلاف آئین سبوتاژکرنے اور سنگین غداری کے الزام میں آرٹیکل6کے تحت مقدمے کی سماعت سے قبل معروف قانون دان شریف الدین پیرزادہ کا بیان قلمبند کرنے سے سیاسی و قانونی حلقوںمیں ہلچل برپا ہوگئی ہے۔

قانونی حلقے ایف آئی اے کی جانب سے قلمبندکیے گئے اس بیان کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے مقدمے کا مرکزی نکتہ تصور کررہے ہیں ،90سالہ شریف الدین پیرزادہ پاکستان کے قانونی ڈھانچے میں بنیادی کردار کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ ملک کی سب آمریتوں کے مشیر کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں ، انھوں نے پاکستان کی جانب سے متعدد بار عالمی عدالت میں بھی نمائندگی کی ہے ، جنرل ضیا الحق کے دور میں وہ اپنی گوناگوں صلاحیتوں کے باعث اسلامی ممالک کی تنظم او آئی سی کے سیکریٹری بھی رہے اور ان کے مخالفین انہیں جدہ کے جادوگر کی حیثیت سے یاد کرتے تھے ، قانونی ماہرین کاعام تاثر ہے کہ ہر فوجی حکمراں کے پیچھے عارضی آئین یا لیگل فریم ورک کی تیاری میں شریف الدین پیرزادہ کا نمایاں کردار رہا ہے۔

 photo 1_zps82272750.jpg

اس حوالے سے سندھ ہائیکورٹ بار کے رہنما حسان ایڈووکیٹ کہنا ہے کہ وہ شریف الدین پیرزادہ کے بارے میں گفتگو کرنا ہی نہیں چاہتے ، سندھ بار کونسل کے رکن حلیم صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ شریف الدین پیرزادہ کی زندگی تنازعات سے بھری ہوئی ہے ، وہ اپنی ہی اہلیہ کے مقدمہ قتل میں ملوث رہے ، انہیں وکلابرادری میں کوئی حیثیت حاصل نہیں ، تاہم یہ بات لازمی ہے کہ اگر شریف الدین پیرزادہ اس مقدمے میں ملزم نہ ہوئے تو بھی ان کی وکالت کا جادو بھی سامنے آجائیگا ، ایسا نہ ہو کہ شریف الدین پیرزادہ جنرل پرویز مشرف کو بچانے کے بجائے خود اس معاملے میں پھنس جائیں، جسٹس (ر) شائق عثمانی نے کہاکہ اپنے کیس میں خود وکالت کرنا عمومی طور پر درست نہیں سمجھا جاتا لیکن بار کے قوانین میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے ۔