ڈرون روکنے کیلیے طاقت کا استعمال بھی کرنا ہوگا پرویز مشرف

فرقہ واریت میں بیرونی ہاتھ ہے، طاقت کے استعمال سے مسئلہ بلوچستان 6ماہ میں حل ہوسکتا ہے


Staff Reporter September 07, 2012
فرقہ واریت میں بیرونی ہاتھ ہے، طاقت کے استعمال سے مسئلہ بلوچستان 6ماہ میں حل ہوسکتا ہے. فوٹو: اے ایف پی/فائل

آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ملک کو اس وقت فرقہ وارنہ دہشت گردی کا سامنا ہے اور بیرونی ہاتھ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ڈرون حملے روکنے کیلیے حکومت کو ڈپلومیسی کے ساتھ ساتھ طاقت کا بھی استعمال کرنا ہوگا۔ وہ جمعرات کو فاسٹ نیشنل یونیورسٹی کراچی میں یوم دفاع پاکستان کے موقع پر منعقدہ تقریب سے وڈیو خطاب کر رہے تھے۔ پرویز مشرف نے کہا کہ گلگت بلستان اور کوئٹہ میں ہونے والے واقعات کو فرقہ وارانہ رنگ دیا گیا جبکہ ان واقعات میں بیرونی ہاتھ بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔دہشت گردی اور انتہا پسندی کو روکنے کے لیے نوجوان اپنا کرادا ادا کریں۔

موجودہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کی معاشی صورت حال بد تر حالت میں ہے۔ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں اور اے پی ایم ایل اقتدار میں آکر پاکستان کو اقتصادی طور پر مضبوط ملک بنا ئے گی۔ مجھے فخر ہے کہ میں نے اپنے دور حکومت میں تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ بلوچستان میں سب سے زیادہ ترقی میرے دور حکومت میں ہوئی ، بلوچستان میں پنجاب سے زیادہ فنڈنگ ہوئی ہے لیکن بد قسمتی سے وہاں ترقی نہیں ہوسکی ہے۔

طلباء کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے پرویز مشرف نے کہا کہ بلوچستان میں کچھ تنظیمیں غیر ملکی ہاتھوں میں کھیل رہی ہیں اور وہ بلوچستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں اور اگر ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جائے تو 6 ماہ میں بلوچستان کے حالات ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں ملک میں ڈورن حملوں کو روکنے کیلیے مذاکرات کی راہ اختیار کرنی ہوگی تاہم فوج کا آپشن بھی استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن بہتر ہے کہ ہم سیاسی طریقے سے اس کا حل نکالیں۔ ہمیں بالکل یہ اجازت نہیں دینی چاہیے کہ بیرونی فوج ہماری سرحد پر حملے کرے اور ہم صرف اور صرف ڈپلومیٹک طریقے ہی استعمال کرتے رہیں۔