بختاور بھٹو کے منگنی کے دعوت نامے پر سوشل میڈیا صارفین کے اعتراض

ویب ڈیسک  منگل 17 نومبر 2020
بختاور بھٹو کی ی منگنی امریکی بزنس مین یونس چوہدری کے بیٹے محمود چوہدری کے ساتھ 27 نومبر کو طے ہے فوٹوسوشل میڈیا

بختاور بھٹو کی ی منگنی امریکی بزنس مین یونس چوہدری کے بیٹے محمود چوہدری کے ساتھ 27 نومبر کو طے ہے فوٹوسوشل میڈیا

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرئین کے صدر آصف علی زرداری اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی بیٹی بختاور بھٹو زرداری کے منگنی کے کارڈ میں موجود غلطیوں کی چند سوشل میڈیا صارفین نے نشاندہی کی ہے۔

گزشتہ ہفتے بختاور بھٹو زرداری کی منگنی کی خبر سامنے آئی تھی اور ساتھ ہی ان کی منگنی کا کارڈ بھی منظرعام پر آیا تھا۔ جس کے مطابق ان کی منگنی امریکی بزنس مین یونس چوہدری کے بیٹے محمود چوہدری کے ساتھ 27 نومبر کو طے ہے۔

بختاور بھٹو کی منگنی کا کارڈ دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا اور لوگوں نے جہاں شہید بی بی کی بیٹی کو نئی زندگی کی مبارکباد دی وہیں کچھ لوگوں نے کارڈ میں موجود چند غلطیوں کی نشاندہی بھی کی۔

کارڈ کے سب سے اوپر بختاور کے والد کانام ’’پریزیڈنٹ آصف علی زرداری‘‘ درج ہے۔

لوگوں نے نام کے ساتھ موجود ’’پریزیڈنٹ‘‘ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کیا آصف علی زرداری اب بھی صدر ہیں؟

جب کہ کچھ کا کہنا تھا  کہ اس وقت پاکستان کے موجودہ صدر آصف علی زرداری نہیں بلکہ عارف علوی ہیں۔

کچھ لوگوں نے یہ اعتراض کیا کہ کارڈ میں سب سے اوپر آصف علی زرداری کا نہیں بلکہ بے نظیر بھٹو کا نام درج ہونا چاہیئے تھا۔

کارڈ میں سوشل میڈیا صارفین نے جس دوسری غلطی کی نشاندہی کی وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام میں موجود تھی۔ دراصل کارڈ میں ’’محترمہ‘‘ کا املا (اسپیلنگ) غلط لکھی ہوئی ہے۔ اس غلطی کی نشاندہی بھی ایک سوشل میڈیا صارف نے کی۔

دعوت نامے میں جس تیسری چیز پر لوگوں کو اعتراض ہے وہ یہ ہے کہ بختاور کے نام کے ساتھ صرف ’’شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی بیٹی‘‘ لکھا ہوا ہے ان کے والد کا نہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس جگہ والد اور والدہ دونوں کا نام آنا چاہیئے تھا۔

واضح رہے کہ وکی پیڈیا کے مطابق کچھ ذرائع یہ کہتے ہیں کہ سابق امریکی صدور کو باضابطہ اور غیر رسمی طور پر ’’مسٹر صدر‘‘ کے نام سے خطاب کیا جاتا ہے اور یہ مکمل طور پر مناسب ہے۔ دوسری جانب برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق سابق صدور اور سابق سفیر کو حق ہے کہ وہ عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی اپنے نام کے ساتھ’’صدر‘ یا ’سفیر‘ کا لفظ لگا سکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔