گرتی ہوئی دیوار کو آخری دھکا دینےکیلیے پاکستان تیار

سری لنکن حوصلےپست ہوگئے،پانچواں ون ڈےآج کھیلاجائیگا،آفریدی کی واپسی کے بعد انور علی یا عبدالرحمان کی شمولیت کا امکان


Sports Desk December 27, 2013
حالیہ کارکردگی کے مدنظر پاکستان ہی سیریز میں جیت کا حقدار تھا۔سری لنکن کپتان۔فوٹو:اے ایف پی/فائل

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ون ڈے سیریز کا پانچواں اور آخری میچ جمعے کو ابوظبی کے شیخ زید اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

سیریز گنوانے سے مہمان ٹیم کے حوصلے پست ہو چکے،گرتی ہوئی دیوار کو آخری دھکا دینے کیلیے گرین شرٹس مکمل تیار ہیں، ٹرافی جیتنے کے باوجود نگاہیں آخری معرکہ سر کرنے پر مرکوز ہیں، شاہد آفریدی کی واپسی کے بعد انور علی یا عبدالرحمان کی شمولیت کا امکان روشن ہوگیا، حارث سہیل کو موقع پانے کیلیے کسی سینئر کے آرام کا انتظارہے، کپتان مصباح الحق نے کہاکہ ٹیم کے حوصلے کافی بلند اور سیریز کا اختتام کامیابی کے ساتھ کرنے کیلیے بے چین ہیں، دوسری جانب سری لنکا کے پاس ٹیسٹ سیریز کے آغاز سے قبل اعتماد بحال کرنے کا یہ آخری موقع ہے، ٹیم میں ایک بار پھر تبدیلوں کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا، کپتان میتھیوز نے کہا کہ حالیہ کارکردگی کے مدنظر پاکستان ہی سیریز میں جیت کا حقدار تھا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور سری لنکا میں سیریز آغاز میں کانٹے دار دکھائی دے رہی تھی مگر عمرگل کی واپسی سے یکطرفہ ہوکر رہ گئی، مہمان ٹیم نے تمام شعبوں میں اپنی کوتاہیوں سے نتائج کو ہاتھ سے پھسلنے کا موقع فراہم کیا، اس وجہ سے تیسرے میچ میں 113 رنز کی شکست کے بعد چوتھے میں 8 وکٹ سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ گذشتہ مقابلے میں سری لنکن اٹیک اعتماد سے عاری دکھائی دیا، سیریز میں دوسری دوسری بار لسیتھ مالنگا ایک بھی وکٹ نہیں لے پائے جبکہ نوان کولاسیکرا کی بھی موجودگی کا احساس دلانے میں ناکام رہے، ٹیم کو رنگانا ہیراتھ کی کمی شدت سے محسوس ہوتی رہی جبکہ ان کے متبادل اجنتھا مینڈس کو تاحال میدان میں نہیں اتارا گیا۔ اب تک چاروں میچز میں پاکستان کی جانب سے سنچری اسکور کی گئی اور تھری فیگر شراکتیں بھی بنیں جبکہ سری لنکا ایک بار بھی ایسا نہیں کر پایا، دوسرے ون ڈے میں بھی فتح مشترکہ حصہ ڈالنے کی وجہ سے ممکن ہوئی تھی، ایسے طریقوں سے کامیابی ون ڈے کرکٹ میں کم ہی دکھائی دیتی ہے، پاکستان کی جانب سے حفیظ اب تک سیریز کے چار میچز میں تین سنچریاں اسکور کرچکے، ان کی سیریز میں ایوریج 203.50 ہے۔

 photo 1_zps69152c94.jpg

پاکستان نے اب تک صرف ایک تبدیلی کی جب آئوٹ آف فارم سہیل تنویر کی جگہ تیسرے میچ میں عمرگل کو کھلایا اور ان کی آمد کے بعد سیریز کا نقشہ ہی پلٹ گیا، اب شاہد آفریدی ذاتی وجوہات پر وطن واپس لوٹ چکے جس سے انور علی یا عبدالرحمان کے میدان میں اترنے کا امکان ہوگیا، حارث سہیل بھی موقع کے منتظر ہیں،اگر مصباح کسی اورکو آرام دینے کا فیصلہ کرتے ہیں تو انھیں بھی چانس مل سکتا ہے، مگر اس کا امکان کم ہی ہے۔ کپتان نے کہاکہ ہم کسی صورت سہل پسندی کا مظاہرہ نہیں کریں گے،آخری ون ڈے بھی جیت کر حریف سائیڈ پر ٹیسٹ سیریز سے قبل دبائو کا سلسلہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

حفیظ نے فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا، ادھر سری لنکا کی جانب سے ایشان پریانجان کو برقرار رکھا جائے گا جبکہ ویتھانگے کی جگہ کو بھی خطرہ نہیں ہے، البتہ سیکوگے پرسنا سورنگا لکمل یا پھر کولاسیکرا میں سے کسی کی جگہ کھیل سکتے ہیں۔ سیریز میں اب تک مصباح الحق، صہیب مقصود اور احمد شہزاد بھی 50 سے زائد کی اوسط سے رنز بنا چکے،سری لنکا کی جانب سے ایک سے زائد اننگز کھیلنے والوں میں سب سے بہتر 40 کی اوسط میتھیوز کی ہے،انھوں نے کہاکہ حالیہ کارکردگی کے مدنظر پاکستان ہی سیریز میں جیت کا حقدار تھا،ہمیں اس کا مقابلہ کرنے کیلیے تمام شعبوں میں بہتری درکار ہے۔