ٹیسٹ مشن کی تیاریاں پاکستانی ٹیم کا’’گیئر‘‘ تبدیل

نئےسال کا آغازجشن فتح سےکرنے کی منصوبہ بندی کیلیےسرجوڑلیے،آخری ون ڈے میں ہار مایوس کن ہے,اعتماد متاثرنہیں ہوگا،کپتان


Sports Desk December 29, 2013
سیریز میں فتح سے پلیئرزکے حوصلے بلند ہوگئے،حفیظ کی واپسی اہم ثابت ہوگی، سنچریوں سے کوئی غرض نہیں، ففٹیز سے ٹیم کے کام آکر ہی خوش ہوں،مصباح ۔ فوٹو: اے ایف پی /فائل

ون ڈے سیریز جیتنے والی پاکستانی ٹیم نے ٹیسٹ مشن کی تیاریوں کیلیے ''گیئر'' تبدیل کر لیا، نئے سال کا آغاز فتح کے جشن سے کرنے کی منصوبہ بندی کیلیے سرجوڑلیے،کپتان مصباح الحق کہتے ہیں کہ سری لنکا کیخلاف سیریز میں فتح سے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند ہوگئے۔

آخری ایک روزہ میچ میں شکست مایوس کن ضرورہے مگر اعتماد متاثر نہیں ہوگا، پانچ روزہ میچز میں بھی کامیابی حاصل کریں گے، حفیظ کی ٹیسٹ اسکواڈ میں واپسی اہم ثابت ہوگی، سنچریوں سے کوئی غرض نہیں، ففٹیز سے ٹیم کے کام آ کر ہی خوش ہوں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم نے 2013 کی اختتامی سیریز میں سری لنکا کو شکست تو دی مگر سال کے آخری ون ڈے میں فتح سے محروم رہی، اب پاکستان کی توجہ 31 دسمبر سے سری لنکا کیخلاف شروع ہونے والی تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کی جانب مبذول ہوچکی، ٹیم سال نو کا جشن فتح کے ساتھ منانے کی خواہاں ہے، پہلا ٹیسٹ بھی ابوظبی میں ہی کھیلا جائے گا۔ کپتان مصباح الحق کو جہاں ایک جانب ون ڈے سیریز میں کامیابی کی خوشی ہے تو دوسری جانب اپنے دیرینہ دوست محمد حفیظ کے پھر سے ٹیسٹ اسکواڈ جوائن کرنے پر بھی خوشی سے پھولے نہیں سما رہے،آل رائونڈرکو ناقص فارم پر جنوبی افریقہ سے یو اے ای میں منعقدہ ٹیسٹ سیریز میں ڈراپ کردیا گیا تھا۔



سری لنکا کے خلاف پانچ میچز میں تین سنچریاں جڑ کر وہ پھر سے خود کو طویل فارمیٹ کھیلنے کا حقدار ثابت کرچکے ہیں۔ مصباح الحق نے کہاکہ حفیظ ٹیسٹ سیریز میں بھی کافی کارآمد ثابت ہوں گے،ایک بیٹسمین کو اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے اور اس وقت حفیظ کافی پُراعتماد ہیں، ویسے بھی پچز میں کوئی خاص فرق نہیں ہوگا اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس فارمیٹ میں بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ کپتان نے کہا کہ ون ڈے سیریز میں فتح سے کھلاڑیوں کے حوصلے کافی بلند ہوچکے اور اب ہم ٹیسٹ میں بھی سری لنکا کو گھیرنے کیلیے تیار ہیں، سال کے وسط میں ہماری کارکردگی اچھی نہیں رہی تھی مگر اب پھر سے سنبھل چکے۔

البتہ فیلڈنگ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے پانچویں ون ڈے میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا ۔مصباح الحق نے رواں برس ون ڈے میں 15 نصف سنچریاں اسکور کیں، وہ ایک بار بھی اپنی اننگز کو سنچری میں تبدیل نہیں کرپائے، اس کے باوجود وہ فکرمند نہیں ہیں، انھوں نے کہا کہ سنچری کی ہمیشہ اہمیت ہوتی لیکن جب تک میں ٹیم کے مفاد میں ففٹیز اسکور کررہا ہوں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے، میں نے 2013 میں جوکچھ حاصل کیا اسی پر کافی خوش ہوں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پانچویں اور چھٹے نمبر پر نوجوان کھلاڑیوں کو کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے میں خود اس نمبر پر کھیلنے کیلیے آتا ہوں، اکثر صورتحال دبائو سے بھرپور ہوتی ہے ابتدائی وکٹیں آغاز میں ہی گرچکی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے ہمیں بڑی پارٹنر شپ درکار ہوتی ہے اسی لیے میں اسی نمبر پر مستقل بیٹنگ کرتا ہوں۔