ہاؤسنگ اسکیموں اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کھربوں کی انڈر رپورٹنگ کا انکشاف

صرف ڈی ایچ اے کراچی میں پلاٹس و مکانات کی خریدو فروخت میں کھربوں روپے کی انڈر رپورٹنگ کی گئی


Irshad Ansari December 30, 2013
صرف ڈی ایچ اے کراچی میں پلاٹس و مکانات کی خریدو فروخت میں کھربوں روپے کی انڈر رپورٹنگ کی گئی. فوٹو فائل

ملک بھر میں ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی سمیت دیگر ہائوسنگ اسکیموں اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ہونے والی سرمایہ کاری میں کھربوں روپے کی انڈر رپورٹنگ کا انکشاف ہوا ہے اور ملک بھر میں ہائوسنگ سوسائٹیز و دیگر رہائشی و کمرشل اسکیموں میں پلاٹس و مکانات اور فلیٹس کی خریدوفروخت میں انڈر رپورٹنگ کے ذریعے کروڑوں روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف ہوا ہے۔

اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق یہ انکشاف فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی طرف سے صوبائی ریونیو اتھارٹیز و صوبائی اداروں سے حاصل کردہ ڈیٹا سے ہوا ہے۔ دستاویز کے مطابق صرف ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی کراچی میں پلاٹس و مکانات کی خریدو فروخت میں کھربوں روپے کی انڈر رپورٹنگ کی گئی ہے۔ دستاویز کے مطابق اس حوالے سے چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو رحمت اللہ خان ریجنل ٹیکس آفس کراچی کی طرف سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ہیڈ کوارٹر کو ایک لیٹر بھی لکھا گیا ہے جس میں انکشاف کیا ہے کہ آر ٹی او کراچی کی طرف سے حال ہی میں ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی(ڈی ایچ اے)اور سندھ ریونیو بورڈ سے غیر منقولہ جائیدادوں کی خریدو فروخت کے بارے میں ہونے والی ٹرانزیکشنز کے حاصل کردہ ڈیٹا میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پلاٹس و مکانات پر مشتمل غیر منقولہ جائیداد کی خریدو فروخت میں کی جانیوالی اصل سرمایہ کاری کی مالیت ظاہرکی جانیوالی سرمایہ کاری کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ ہے لیکن ان جائیدادوں کی ٹرانسفرز کیلیے کنویننس ڈیڈ اور سیل ڈیڈ میں کلکٹرز ریٹ کے مطابق قیمت ظاہر کی گئی ہے۔



دستاویزکے مطابق چیف کمشنر آر ٹی او کراچی کی طرف سے لکھے جانیوالے لیٹر میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران ڈی ایچ اے میں 72 ہزار آٹھ سو مکانات و پلاٹس اور غیر منقولہ جائیداد کی خریدو فروخت و ٹرانزیکشنز ہوئی ہیں اور ان پلاٹس و مکانات کی مالیت سیکشن 141(b) کے تحت کلکٹرز ریٹ کے مطابق کی گئی ہے جبکہ ان مکانات اور پلاٹس و غیر منقولہ جائیداد میں کی جانیوالی سرمایہ کاری کی اصل مالیت 800 ارب روپے سے بھی زائد ہے۔ اس حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ تو ایک کیس ہے، اس طرح کے درجنوں کیس ہیں، نہ صرف ہائوسنگ سوسائٹیز میں پلاٹس و مکانات کی خریدو فروخت میں بڑے پیمانے پر انڈر رپورٹنگ ہورہی ہے، اس کے علاوہ بھی جو زمین و جائیداد اور مکانات و پلاٹس کی خریدو فروخت ہوتی ہے اس میں بھی انڈر رپورٹنگ ہورہی ہے۔ اس بارے میں جامع حکمت عملی مرتب کی جارہی ہے۔