سری لنکن ٹائیگرز سے چوکنا رہنا ہوگا پاکستانی کپتان

ہمارا بولنگ اٹیک بہتر ہے، مقابلہ کانٹے دار ہو گا،مصباح کاپلیئرز کو انتباہ


Sports Desk December 30, 2013
ٹیسٹ پریکٹس نہ ہونے سے ٹیم پرفارمنس متاثر نہیں ہوگی، پاکستانی کھلاڑیوں کا شکار کھیلنے کیلیے پوری طرح تیار ہوں، سری لنکن اسپنر رنگانا ہیراتھ کا عزم۔ فوٹو: فائل

کپتان مصباح الحق نے اپنی ٹیم کو خبردار کیا ہے کہ خطرناک سری لنکن ٹائیگرز سے چوکنا رہنا ہوگا، مہیلا جے وردنے اور رنگاناہیراتھ کی موجودگی آئی لینڈرز کو مزید مہلک بنارہی ہے۔

ٹیسٹ سیریز میں بنیادی سبق سے انحراف نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، ہمارا بولنگ اٹیک بہتر ہے، مقابلہ کانٹے دار رہے گا، دوسری جانب ہیراتھ کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ پریکٹس نہ ہونے سے ٹیم پرفارمنس متاثر نہیں ہوگی، پاکستانی کھلاڑیوں کا شکار کھیلنے کیلیے پوری طرح تیار ہوں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا آغاز منگل سے ابوظبی میں ہورہا ہے، ون ڈے سیریز میں فتح کے بعد پاکستانی سائیڈ سینئر فارمیٹ میں آئی لینڈرز کا شکار بولنگ اٹیک سے کھیلنے کیلیے پرعزم مگر حریف سائیڈ میں تجربہ کار کھلاڑیوں کی وجہ سے کچھ محتاط بھی ہے۔ اکتوبر میں متحدہ عرب امارات میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز 1-1 سے برابر کی تھی جبکہ یہیں پر2011 میں سری لنکا کیخلاف تین میچز کی سیریز میں 1-0 سے کامیابی حاصل کی تھی، اس وقت سعید اجمل نے مجموعی طور پر 18 جبکہ عمرگل نے 14 اور جنید خان نے 12 وکٹیں لی تھیں۔

سیریز میں شکست کے باوجود سنگاکارا نے 518 رنز بنائے تھے جس میں ابوظبی ٹیسٹ میں بنائی گئی ڈبل سنچری بھی شامل تھی، وہ اور مہیلا جے وردنے اپنی ٹیم کی بیٹنگ لائن کے مضبوط ستون ہیں، جے وردنے اور اسپنر رنگانا ہیراتھ ذاتی وجوہات کی بنا پر پاکستان سے محدود اوورز کے میچز نہیں کھیل پائے تھے مگر اب انھوں نے پھر سے ٹیم کو جوائن کرلیا ہے۔ گذشتہ برس جب سری لنکا نے پاکستان کو ہوم گرائونڈز پر ٹیسٹ سیریز میں 1-0 سے شکست دی تھی اس وقت بھی سنگاکارا نے 490 رنز بنائے تھے۔ سری لنکا کے برعکس پاکستان کی ٹیم رواں برس 49 اور 99 رنز پر بھی آئوٹ ہوچکی ہے تاہم آئی لینڈرز کے خلاف ہی ون ڈے سیریز میں گرین شرٹس نے عمدہ پرفارم کیا جس سے ان سے توقعات بڑھ گئی ہیں۔



مصباح الحق کا کہنا ہے کہ آپ کو ہر گزرتے دن کے ساتھ خود میں مزید بہتری لانا ہوتی ہے، ٹیسٹ فارمیٹ الگ قسم کا گیم ہے، اس میں آپ کو بنیادی چیزوں پر جمے رہنے کی ضرورت ہوتی ہے، ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ سری لنکا بھی ان کنڈیشنز میں کافی اچھا کھیلتا اور اس کے پاس کمارسنگاکارا اور جے وردنے جیسے بیٹسمین موجود ہیں، ہمارا بولنگ اٹیک ان سے بہتر ہے مگر سری لنکا کی ٹیم میں اب رنگانا ہیراتھ بھی موجود ہیں جوکہ ان کے اہم بولر ہیں اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ ٹیسٹ سیریز کافی کانٹے دار ثابت ہوگی۔ واضح رہے کہ ہیراتھ کا ریکارڈ خاص طور پر پاکستان کے خلاف انتہائی شاندار ہے، لیفٹ آرم اسپنر دو باہمی سیریز میں 25 وکٹیں لے چکے ہیں اور اس بار بھی تباہی ڈھانے کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

سری لنکا نے رواں برس مارچ میں بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز کے بعد سے ٹیسٹ میچز نہیں کھیلے تاہم ہیراتھ سمجھتے ہیں کہ اس سے ان کی ٹیم پرفارمنس متاثر نہیں ہوگی، انھوں نے کہا کہ اگر آپ باقاعدگی سے کرکٹ کھیل رہے ہوں تو پھر آپ کی فارم متاثر نہیں ہوتی، ہم بھی اس ٹیسٹ سیریز کیلیے تیار ہیں، انھوں نے کہا کہ سعید اجمل ایک بہترین بولر اور ان کا ریکارڈ کافی اچھا ہے خود میری گذشتہ چار پانچ برس سے کارکردگی کافی بہتر رہی ہے، ایک طرح سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ باہمی جنگ ہے مگر میری دلچسپی سعید اجمل میں نہیں بلکہ سری لنکا کو فتح دلانے میں ہے۔ ہیراتھ پاکستان کے خلاف مجموعی طور پر 12 میچز میں 51 وکٹیں لے چکے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ سب ماضی کا حصہ ہیں اس سے اعتماد میں اضافہ تو ہوتا مگر آپ کو اچھے آغاز کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔