سپریم کورٹ کا سندھ ہائیکورٹ کے 2ججز بحال کرنے کا حکم

سنیارٹی2011سے شمار،برطرفی سیاسی تعلق،مشکوک مالی معاملات پرہوئی، ڈپٹی اٹارنی جنرل۔


Staff Reporter September 08, 2012
سنیارٹی2011سے شمار،برطرفی سیاسی تعلق،مشکوک مالی معاملات پرہوئی، ڈپٹی اٹارنی جنرل۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: سپریم کورٹ کے4رکنی لارجربینچ نے سندھ ہائیکورٹ کے 2ججوں کی بحالی کے خلاف وفاق کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ایک ہفتے میں دونوں ججوں کی مستقل جج کی حیثیت سے تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کاحکم دیا ہے۔

فاضل بینچ نے قرار دیا ہے کہ ایک ہفتے میں نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کی صورت میں بھی جسٹس غلام سرورکورائی اور جسٹس عرفان سعادت خان کو سندھ ہائیکورٹ کامستقل جج تصور کیا جائے گا،ان کی سنیارٹی 17ستمبر 2011سے شمار کی جائے گی۔واضح رہے کہ پارلیمانی کمیٹی نے جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کومسترد کرتے ہوئے دونوں ججوں کومستقل کرنے کے بجائے برطرف کردیا تھا۔جسٹس انورظہیرجمالی ، جسٹس سرمد جلال عثمانی ، جسٹس امیرہانی مسلم اور جسٹس اطہر سعید پرمشتمل بینچ نے کراچی رجسٹری میں وفاقی حکومت کی جانب سے دائرکردہ اپیل کی سماعت کی۔

سرکار کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل سید عاشق رضا،ججز کی جانب سے مخدوم علی خان ایڈووکیٹ ،سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کراچی اور سکھر کی جانب سے بیرسٹر فروغ نسیم اور انورمنصورخان نے دلائل دیے،عدالت عظمی نے وکلاء طرفین کے دلائل سننے کے بعد سرکار کی اپیل مسترد کردی۔ فارغ کیے گئے ججوں کی جانب سے مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کو جوڈیشل کمیشن کافیصلہ مسترد کرنے کا اختیار نہیں، ڈپٹی اٹارنی جنرل سید عاشق رضا نے اپنے دلائل میں کہا کہ مذکورہ ججز کو سیاسی تعلق اور مشکوک مالی معاملات کی بنیاد پر برطرف کیا گیا ہے۔

سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کراچی اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سکھر کی جانب سے انور منصور خان اور بیرسٹر فروغ نسیم نے دلائل دیے، وکلاء تنظیموں نے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ سندھ ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججوں جسٹس غلام سرور کورائی اور جسٹس عرفان سعادت خان کو مستقل کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن نے سفارشات دی تھیں تاہم پارلیمانی کمیٹی نے ٹھوس وجوہات بتائے بغیر انہیں مستقل کرنے کی سفارش مستردکر دی۔