انگلینڈ کی شکست مایوس کن اور شرمناک ہے جیفری بائیکاٹ

2006-07 سیریز کی ناکامی سے بھی بدترہے، دل شکستہ سابق انگلش کپتان


Sports Desk January 06, 2014
2006-07 سیریز کی ناکامی سے بھی بدترہے، دل شکستہ سابق انگلش کپتان۔ فوٹو: فائل

MORO: سابق انگلش کپتان جیفری بائیکاٹ نے حالیہ ایشز میں انگلینڈ کی 0-5 سے شکست کو مایوس کن اور شرمناک قرار دے دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ وائٹ واش2006-07 کی ناکامی سے کہیں زیادہ حیران کن ہے۔ تفصیلات کے مطابق سابق انگلینڈ بیٹسمین جیفری بائیکاٹ نے ایشز سیریز میں آسٹریلیا کے ہاتھوں ٹیم کی 0-5 شکست کو 'مایوس کن اور شرمناک' قرار دیا ہے۔ پانچویں اور آخری ایشز ٹیسٹ میں تیسرے دن ہی انگلینڈ کی ناکامی پر تبصرہ کرتے ہوئے بائیکاٹ نے مقامی اخبار کیلیے تحریر کردہ اپنے کالم میں لکھا ہے کہ یہ انگلش کرکٹ کیلیے انتہائی مایوس کن اور ذلت آمیزہے۔ بائیکاٹ لکھتے ہیں کہ ہار کھیل کا حصہ ہے لیکن ہم نے 5 ٹیسٹ میچز ہارے ہیں اور سڈنی کی شکست بدترین شکست ہے، کیونکہ ایسا 3 دنوں میں ہوا ہے، ہم مکمل طور پر پسپا ہوگئے ، ہم نے کوئی جدوجہد نہیں کی، ہوسکتا ہے مائیکل کلارک نے اپنے بیٹسمینوں کو جلد از جلد رنز اسکور کرنے کیلیے کہا ہوگا ۔

 photo 5_zpsecae8954.jpg

دو اننگز میں155 اور 166 رنز کا حوالہ دیتے ہوئے بائیکاٹ لکھتے ہیں کہ کلارک کو بہت زیادہ رنز بنانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کیونکہ وہ پراعتماد تھے کہ ان کے بولرز انگلینڈ ٹیم کو صرف دوسیشنز میں آؤٹ کرلیں گے، یہی انتہائی ناقص کارکردگی ہے 73 سالہ بائیکاٹ محسوس کرتے ہیں کہ مچل جونسن آسٹریلیا کا واحد خصوصی بولر ہے جبکہ انگلینڈ نے دوسرے بولرز کا بہتر طریقے سے سامنا کیا۔ سیریز میں 13.97 کی اوسط سے 37 وکٹیں لینے والے بائیں ہاتھ کے تیز بولر کے بارے میں بائیکاٹ کہتے ہیں کہ آسٹریلیا کے پاس ایک اسپیشل بولر ہے جس کا نام مچل جونسن ہے، بائیکاٹ کا کہنا ہے کہ وائٹ واش 2006-07 کی ناکامی سے کہیں زیادہ افسوس ناک ہے، یہ مایوس کن ہے کیونکہ مجھے ایسی کوئی سیریز یاد نہیں جہاں انگلینڈ نے اتنی ناقص کارکردگی اور کھلاڑیوں نے کمزور بیٹنگ کی ہو، 2006-07 میں ہار پریشان کن تھی ، لیکن اس وقت چند عظیم پلیئرز موجود تھے، اس سائیڈ میں عظیم پلیئرز کہاں ہیں؟ آسٹریلیا کے پاس منصوبہ بندی، اعتماد، یقین کامل ہے، انھوں نے ہم پر کامیابی سمیٹی جبکہ ہم خوفزدہ رہے۔