مہیلا جے وردنے کے مستقبل پر سیاہ بادل چھانے لگے

14اننگزسے ففٹی نہیں بنائی،ابوظبی ٹیسٹ میں ناکامی پرانگلیاں اٹھنا شروع ہوگئیں


AFP/Sports Desk January 07, 2014
فلاپ رہنے کی وضاحت نہیں دے سکتا، اب زیادہ تیاری کیساتھ کھیلوں گا، بیٹسمین فوٹو: بی سی سی آئی/فائل

سری لنکن کرکٹر مہیلا جے وردنے کے مستقبل پر سیاہ بادل چھانے لگے، ابوظبی ٹیسٹ میں ناکامی سے پہلی بار سابق کپتان پر انگلیاں اٹھنا شروع ہوگئیں، پاکستان سے سیریز کو کیریئر کے لیے اہم قرار دیا جانے لگا، بڑھتے ہوئے دبائو سے پہلی بار باپ بننے کی خوشی بھی ماند پڑنے لگی۔

تفصیلات کے مطابق سری لنکا کے سابق کپتان مہیلا جے وردنے کا ٹیسٹ مستقبل خطرے سے دوچار دکھائی دے رہا ہے، انھوں نے گذشتہ 14 اننگز میں ایک بار بھی ففٹی اسکور نہیں کی، اس وجہ سے پہلی بار ٹیم میں ان کی جگہ پر سوالیہ نشان عائد ہونے لگا، ابوظبی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں وہ کیریئر کا پہلا پانچ روزہ میچ کھیلنے والے بلاول بھٹی کا شکار ہوئے، پہلی اننگز میں 5 جبکہ دوسری بار صفر کی خفت سے دوچارہونا پڑا۔ جے وردنے کا ماضی انتہائی شاندار رہا ہے، انھوں نے 139 ٹیسٹ میں 10811 رنز اسکور کیے جس میں 30 سنچریاں شامل ہیں، تاہم گذشتہ کچھ عرصے سے اس فارمیٹ میں ان کی فارم مسلسل زوال کا شکار ہے، ایک ماہ قبل وہ پہلی بار باپ بنے مگر بڑھتے ہوئے دبائو کی وجہ سے انھیں اس خوشی سے بھی اچھی طرح لطف اندوز ہونے کا موقع نہیں ملا۔



جے وردنے اس بات پر بضد ہیں کہ ان پر کوئی اضافی پریشر نہیں ہے، انھوں نے کہاکہ سری لنکا کی نمائندگی کرتے ہوئے ویسے ہی ہر میچ میں دبائو موجود ہوتا ہے، میں بہت بڑی تعداد میں ٹیسٹ میچز کھیل چکا اور یہ صورتحال میرے لیے قطعی مختلف نہیں ہے، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس فارمیٹ میں طویل وقفہ رنز نہ کرنے کی وجہ ہے کیونکہ میں بہت سخت محنت کرتا رہا ہوں ، ٹیسٹ میچ میں ایسا ہی ہوتا ہے، کبھی آپ کے لیے بہت ہی اچھا ثابت ہوتا اور کبھی یکسر ناکام رہتے ہیں، میں اپنی ناکامی کی وضاحت بھی نہیں دے سکتا، ابوظبی میں مجھے 2 اچھی گیند پڑیں جن پر میں خود کو آئوٹ ہونے سے بچا نہیں سکا، بلاول بھٹی نے اچھی بولنگ کی لیکن اب میں اگلے میچ میں زیادہ تیاری کے ساتھ اتروں گا۔ جے وردنے کیلیے پاکستان سے سیریز کافی اہم ہے،اگر وہ باقی 2 میچز میں بھی ناکام رہے تو چیف سلیکٹر سنتھ جے سوریا کے لیے ان کی ٹیم میں موجودگی کی وجہ بیان کرنا مشکل ہوجائے گا، ویسے بھی کئی نئے پلیئرز اس وقت ٹیم میں جگہ پانے کیلیے بے تاب ہیں۔