مشرف کے سمن کالعدم قراردینے کی درخواست مسترد

انٹرا کورٹ اپیل میں مشرف پر مقدمہ فوجی عدالت میں چلانے کی استدعا کی گئی ہے


Numainda Express January 17, 2014
خصوصی عدالت کے ایکٹ کی دفعہ12کے تحت خصوصی عدالت اپنے آرڈرکو تبدیل کر سکتی ہےوکلا پرویزمشرف، فوٹو:اے ایف پی/فائل

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ریاض احمد خان نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو خصوصی عدالت میں حاضری سے استثنیٰ دینے کی درخواست مستردکردی ۔

پرویز مشرف کے وکلا نے عدالت میں موقف اختیارکیا کہ خصوصی عدالت کے ایکٹ کی دفعہ12کے تحت خصوصی عدالت اپنے آرڈرکو تبدیل کر سکتی ہے۔ عدالت نے درخواست مستردکرتے ہوئے قراردیا کہ خصوصی عدالت کے معاملا ت میں مداخلت نہیں کر سکتے۔اے پی پی کے مطابق درخواست میں خصوصی عدالت کی جانب سے طلبی کے سمن کوکالعدم قرار دینے کی استدعاکی گئی تھی ۔ پرویزمشرف کی جانب سے ڈاکٹر خالد رانجھا پیش ہوئے۔

 photo 2_zpsd922bdfa.jpg

مشرف کی لیگل ٹیم نے خصوصی عدالت کی تشکیل،دائرہ اختیار، پراسیکیوٹرکی تعیناتی کیخلا ف انٹرا کورٹ اپیل میں مو قف اختیارکیا کہ آرٹیکل 9کے تحت خصوصی عدالت کی تشکیل غیر قانونی ہے،وزیر اعظم نے سابق چیف جسٹں افتخار چوہدری سے11نومبر 2013 کو مشاورت کر کے خصوصی عدالت تشکیل دی جوغیر قانونی ہے ۔خصوصی عدالت کا نوٹیفکیشن واپس اور پراسیکیوٹرکی تعیناتی کے احکامات منسوخ کیے جائیں ۔انٹراکورٹ اپیل میں موقف اختیارکیاگیاکہ مشرف نے فوجی وردی میں 3 نومبر 2007کا اقدام کیا جس پر ان کا فوجی عدالت میں ٹرائل کیا جائے ۔