لاپتہ شہری کا مقدمہ کمانڈنگ افسر ملیر کینٹ کو نوٹس جاری

تفتیشی افسر سے تعاون کی ہدایت،شاہ زیب کو فون ملیر کینٹ سے آیاتھا،علاقے میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی، پولیس


Staff Reporter January 18, 2014
کمانڈنگ افسر ملیر کینٹ کو خط بھی لکھا گیا مگرکوئی جواب موصول نہیں ہواہے،ایس ایس پی انویسٹی گیشن فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ نے لاپتا افراد کے کیس میں ملیر کینٹ کے کمانڈنگ افسر کو نوٹس جار ی کرتے ہوئے تفتیشی افسر سے تعاون کی ہدایت کی ہے۔

جسٹس غلام سرور کورائی کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے احسن آباد کے رہائشی مقصود عالم کی درخواست کی سماعت کی، عدالت کو بتایا گیا کہ تفتیشی افسر کی رپورٹ کے مطابق درخواست گزار کے بیٹے شاہ زیب کی گمشدگی سے قبل اسے ڈی ایچ اے ملیر کے علاقے سے فون کال موصول ہوئی تھی، اے آئی جی لیگل علی شیر جکھرانی نے بھی یہ موقف اختیار کیا کہ لاپتا شہری کو ملیرکینٹ کے علاقہ سے ہی فون آیا تھا، درخواست گزار نے بھی اپنی آئینی درخواست میں یہی موقف اختیارکیا ہے کہ اس کا بیٹا شاہ زیب جامعہ رشیدیہ میں ملازم تھا،29 مئی 2013کو اسے ایک ٹیلیفون کال موصول ہوئی اس نے اہل خانہ کو بتایا کہ اسے احسن آباد چوکی بلایا گیا ہے وہ وہاں جارہا ہے۔



تاہم پولیس چوکی پر حاضری کے بعد شاہ زیب واپس نہیں آیا، اہل خانہ نے اسکی تلاش کے لیے انتہائی بھاگ دوڑ کی اور متعلقہ پولیس سے بھی رابطہ کیا لیکن بیٹے کے بارے میں کوئی علم نہیں ہوسکا،ایس ایس پی انویسٹی گیشن (ایسٹ) کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ گمشدہ شاہ زیب کو موصول ہونیوالی فون کال کے ذریعے ملیر کینٹ کا نمبر ٹریس کیا گیا ہے اور یہ کال ملیر کینٹ کے علاقے سے موصول ہوئی تھی مگر تفتیشی افسر کو متعدد کوشش کے باوجود ملیر کینٹ کے علاقے میں داخلے کی اجازت نہیں دی جارہی،اس حوالے سے کمانڈنگ افسر ملیر کینٹ کو خط بھی لکھا گیا گیا مگرکوئی جواب موصول نہیں ہوا، عدالت نے کمانڈنگ افسر ملیر کینٹ کو 2فروری کیلیے نوٹس جاری کرتے ہوئے پولیس سے مکمل تعاون کی ہدایت کی ہے۔