رینجرز اور حکومت میں کوئی اختلاف نہیں کراچی آپریشن جاری رہے گا قائم علی شاہ

ٹریفک قوانین کو مزید سخت کیا جائے گا، کراچی میں 50بسیں چلانے کیلیے ٹینڈر جاری کردیے، لواحقین سے تعزیت


Numainda Express January 18, 2014
غم زدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔قائم علی شاہ۔فوٹو:این این آئی

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ سانحہ نوابشاہ پر افسوس ہے جس میں قیمتیں جانیں ضائع ہوئی ہیں، جس کا کوئی مداوا نہیں ہو سکتا، غم زدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

جمعے کودولت پور میں سانحہ نوابشاہ میں جاں بحق ہونے والے طلبہ اور اساتذہ کے لواحقین سے تعزیت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ حادثے کی تحقیقات کیلیے کمشنر جمال مصطفیٰ سید کی سربراہی میں قائم کمیٹی کوایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے، حادثے کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، ٹریفک قوانین کو مزید سخت بنانے کی ضرورت ہے۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ رینجرز اور سندھ حکومت کے درمیان کوئی اختلافات نہیں ہیں، کراچی میں بلا تفریق آپریشن جاری رہے گا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ نے سانحہ نوابشاہ کے متاثرہ خاندانوں میں فی کس 5 لاکھ روپے کے امدادی چیک تقسیم کیے۔ بعد ازاںڈاکٹر خان محمد ڈاہری کی رہائش گاہ پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت ٹریفک قوانین میں ترامیم کر کے خلاف ورزی کرنے والوں کیلیے سخت سزا مقرر کرے گی تاکہ ڈرائیورز کی غفلت سے حادثات کو روکا جاسکے، ڈرائیونگ لائسنس کے اجراکے عمل نظرثانی کی جائے گی غلط لائسنس جاری کرنے والے ٹریفک پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

 photo 1_zps6bf09223.jpg

انھوں نے کہا کہ وہ آج شہید طالب علموں کے ورثا کے پاس پہنچے ہیں اور شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے بھی تعزیت کی۔ انھوں نے بتایا کہ حادثے کے 13 زخمیوں کو کراچی کے اسپتال منتقل کیاگیا ہے جہاں وہ خود زخمیوں کی عیادت کریںگے اور ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ نوابشاہ حادثے کے متعلق ابتدائی رپورٹ سے پتا چلا کہ حادثہ بظاہر ڈرائیور کی لاپرواہی کی وجہ سے لنک روڈ پر ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ قانون سے کوئی بھی بالا تر نہیں اور انکوائری کے بعدملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انھوں نے حادثے کی تحقیقاتی ٹیم کو مزید ہدایت کی کہ ٹریفک حادثے کے مقام پر تاخیر سے پہنچنے اور امدادی کارروائیوں میں سستی کرنے والے سرکاری افسران کی بھی انکوائری کی جائے۔

ایک سوال پر انھوں نے کہاکہ سندھ حکومت صوبے میں سرکاری اور نجی شراکت سے بہت جلد 100 بسیں چلائے گی جس کیلیے ٹینڈر جاری کیے گئے ہیں، 50 بسیں کراچی اور 50 سندھ کے دیگر اضلاع میں چلائی جائیں گی۔ دریں اثنا دولت پور میں سانحے کے متاثرین کو امدادی چیکوں کی تقسیم کے موقع پر ورثا نے پولیس پر تشدد کا الزام لگایا، ورثا نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ پولیس نے ہم پر لاٹھیاں برسائی ہیں،اس موقع پر ضیا الحسن نجار نے مداخلت کی اور ورثا کو سمجھایا جس پرورثا خاموش ہوگئے۔ علاوہ ازیں دولت پور میں ایم پی اے ڈاکٹر بہادر ڈاہری وزیر اعلیٰ سندھ کو چند منٹ کیلیے اپنے گھر لے گئے جس پر وزیر اعلیٰ کے سابق معاون خصوصی اسماعیل ڈاہری اور ایم پی اے کے مابین تلخ کلامی ہوگئی۔